فیض احمد فیض کی 41 ویں برسی — انقلابی شاعر کی یاد آج بھی زندہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
ترقی پسند فکر، انسانی حقوق کی آواز اور اردو شاعری کے عہد ساز شاعر فیض احمد فیض کی 41 ویں برسی آج عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ فیض اپنی شاعری کے ذریعے محبت، انقلاب اور انسانی حقوق کا پیغام عام کرنے میں کامیاب ہوئے اور ان کی فکر آج بھی زندہ ہے۔ انہیں ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں نشانِ امتیاز سے نوازا گیا۔ فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو ضلع نارووال میں پیدا ہوئے اور عالمی سطح پر اردو ادب میں اپنی شناخت قائم کی۔ ان کے معروف شعری مجموعوں میں نقش فریادی، دستِ صبا، زنداں نامہ، دست تہ سنگ، سروادی سینا، شامِ شہریاراں اور میرے دل میرے مسافر شامل ہیں۔ انہوں نے نثر میں بھی میزان، صلیبیں مرے دریچے میں، متاعِ لوح و قلم، ہماری قومی ثقافت اور ماہ و سال آشنائی جیسی کتابیں تحریر کیں۔ 1962 میں انہیں سوویت یونین کی جانب سے لینن امن ایوارڈ سے نوازا گیا، اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے ایشیائی شاعر تھے۔ فیض احمد فیض 20 نومبر 1984 کو 73 برس کی عمر میں انتقال کر گئے اور لاہور میں سپردِ خاک ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: فیض احمد فیض
پڑھیں:
نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
ویب ڈیسک : امیر العظیم کے انتقال کے بعد امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے نذیر احمد جنجوعہ کو قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر کردیا۔
نذیر احمد جنجوعہ نے قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان کا حلف اٹھا لیا۔
اس سے قبل نذیر احمد جنجوعہ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل تھے۔