پارلیمان کی ترمیم کو کسی عدالت کے سامنے چیلنج نہیں کیا جا سکتا: وزیر قانون
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
فائل فوٹو
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ پارلیمان کی گئی ترمیم کو کسی عدالت کے سامنےچیلنج نہیں کیا جا سکتا۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت کا قیام کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ پارلیمان بالادست ہے اور پارلیمان کو بالادست ہونا چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ سیاست میں اگر انتشار اور انتہا پسندی آئے گی پھر نہ ملک آگے چلے گا اور نہ نظام، پھر سیاست دانوں کی بساط لپیٹی جاتی ہے۔
27ویں آئینی ترمیم کے خلاف آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی کی پہلی میٹنگ میں وفاقی آئینی عدالت کے بائیکاٹ کے مطالبے پر اختلاف سامنے آگیا، وکلا ایکشن کمیٹی کے اعلامیے میں پہلے وفاقی آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا گیا بعد میں بائیکاٹ کو بار ایسوسی ایشنز کی مشاورت سے مشروط کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنے کا طریقہ کار بھی درج کیا گیا ہے، پارلیمان آئین میں ترمیم کر سکتی ہے، پارلیمان کی گئی ترمیم کو کسی عدالت کے سامنے چیلنج نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ آئین میں لکھ دیا گیا کہ ملک کو منتخب کیے گئے نمائندوں نے چلانا ہے، یہی بات سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھی، فیصلے میں کہا گیا کہ 17غیرمنتخب جج پارلیمان سے زیادہ ذہین اور بااختیار نہیں ہوسکتے، انہیں ہونا بھی نہیں چاہیے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان آئینی طریقے سے چل رہا ہے، آئینی عدالت کا قیام کوئی نئی چیز نہیں، موجودہ آئینی ترمیم میں ایسی عدالت بنائی گئی ہے جس میں چاروں اکائیوں کی برابر نمائندگی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: آئینی عدالت عدالت کے نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔