Express News:
2026-07-24@08:13:41 GMT

آداب مسجد

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

دنیا میں ہر وہ آدمی کام یاب و کام ران ہُوا کرتا ہے جو باادب ہو۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے:

’’باادب بانصیب۔ بے ادب بے نصیب‘‘ آج کی یہ تحریر آداب مسجد کے بارے میں ہے۔

’’اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔‘‘

مسجد جانے کا ارادہ کرتے ہوئے نیت پاک اور دل صاف ہو، قلب، دنیاوی گندگی سے پاک اور منزّہ ہو، نام و نمود، ریاکاری کا چور دل میں چھپا نہ ہو، بلکہ دل محبتِ مولیٰ سے سرشار اور خشیتِ الٰہی سے معمور ہو۔

ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ نے جماعت کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اور نیتِ صالحہ کو بتایا کہ یہ ثواب کی زیادتی اس وقت ہے جب اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد کے لیے نکلے اور فقط نماز ہی کی نیت سے نکل رہا ہو۔ مسجد جانے سے پہلے گھر ہی میں وضو کرلیا جائے، کیوں کہ سنت طریقہ یہی ہے۔

نبی کریم ﷺ نے جہاں جماعت کی نماز میں ثواب کی زیادتی کا ذکر فرمایا ہے، وہاں یہ تصریح کی ہے کہ ثواب کی زیادتی اس وجہ سے ہے کہ وضو کیا اور اس کے بعد خالص نیت سے مسجد روانہ ہُوا۔ اور انھی آداب کے ساتھ چلنے پر درجہ کی بلندی اور گناہ کی معافی کی بشارت ہے۔

حدیث میں ہے کہ مرد کی باجماعت نماز اس کی اس نماز سے جو گھر اور بازار میں پڑھی جائے، پچیس گنا بڑھی ہوئی ہے، اور وہ زیادتی اس وجہ سے ہے کہ اس نے وضو اس کے حقوق کے ساتھ ادا کیا اور محض نماز ہی کی نیت سے نکلا، اس سلسلے میں جو قدم اٹھائے گا اس کے بدلے میں ایک درجہ بلند ہوگا اور اس کا ایک گناہ معاف ہوگا۔ ضرورت بھی ہے کہ دربارِ خداوندی کے لیے پوری تیاری کے ساتھ چلیں، کپڑے بھی صاف ہوں، بدن اور جسم بھی پاک ہو، اور اعضائے وضو جو وہاں جاکر نمایاں طور پر مصروفِ مناجات اور اظہارِ تذلل میں پیش ہوں گے، صاف ستھرے اور پاکیزہ ہوں۔ روانہ ہوتے ہوئے زبان پر مسنون دعا ہو، جو دل کی گہرائیوں سے نکل رہی ہو۔

حضرت ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص نماز پڑھنے کے لیے نکلتا ہے اور مسنون دعا پڑھتا ہے، اﷲ تعالیٰ اس کی حفاظت کے لیے ستر ہزار فرشتے مقرر فرماتا ہے، جو اس کے لیے فراغتِ نماز تک دعا کرتے ہیں۔ مسنون دعا پڑھنے کا کتنا بڑا اجر رکھا گیا ہے۔ محنت معمولی اور مزدوری اتنی بڑی! اس پر بھی ہمارے دل اثر پذیر نہ ہوں تو حیرت کی بات ہے۔

مسجد روانہ ہوتے ہوئے ایک نظر اپنی ظاہری ہیئت پر بھی ڈال لی جائے، اور یہ یقین کرتے ہوئے کہ ہم ایک عظیم المرتبت دربار کو جا رہے ہیں، اتنا عظیم المرتبت کہ اسے دنیا کی جنت سے تعبیر کیا جائے تو مبالغہ نہیں، تو ادب یہ بھی ہے کہ ظاہری ہیئت عمدہ ہو، ایسی عمدہ جو شریعت کی نظر میں خراجِ تحسین حاصل کرسکے۔

مسجدجاتے ہوئے یہ خیال رہے کہ ہم ایک بڑی عبادت کے لیے بڑے گھر کی طرف جا رہے ہیں، اس لیے رفتار میں پورا وقار، اعتدال اور سکینت نمایاں ہو، ایسی رفتار ہرگز نہ اختیار کی جائے جس سے دیکھنے والا ہلکا پن محسوس کرے اور عام نظروں میں مضحکہ خیزی کی حد تک پہنچ جائے۔ ساتھ ہی یہ بات بھی ہے کہ نماز کا ارادہ کرنا بھی نماز ہی کے حکم میں ہے۔ لہٰذا راستہ میں چلتے ہوئے لہو و لعب، ہنسی مذاق اور ناجائز چیزوں پر نظر سے پرہیز کیا جائے، نگاہ نیچی، دل میں محبت و خشیّت اور امید و بیم کی کیفیت طاری ہو، چہرہ پر تواضع اور ندامت کے آثار ہوں، مگر یہ سب کسی اور کے لیے ہرگز نہ ہو، محض رب العالمین کے لیے ہو۔

مسجد پیدل چل کر آنا چاہیے، بغیر عذرِ شرعی سواری سے آنا اچھا نہیں، تاکہ ہر قدم کا اجر نامۂ اعمال میں لکھا جائے، جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے۔

آنحضرت ﷺ کا دستور بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ پھر یہ کہ پیدل مسجد آنا باعثِ کفارۂ گناہ ہے، جیسا کہ ایک طویل حدیث میں پورا واقعہ مذکور ہے کہ جس میں آ نحضرت ﷺ نے اپنا واقعہ بیان فرمایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی رؤیت غنودگی کی حالت میں میسر آئی، رب العزت نے مجھ سے ملائے اعلیٰ کے بارے میں سوال کیا، میں نے اپنی لاعلمی ظاہر کی، آخر کار اس نے اپنا دستِ قدرت مجھ پر ڈالا جس کا اثر میں نے محسوس کیا۔ اس کے بعد رب العزت کی طرف سے پھر وہی سوال ہوا، اب میں نے کہا کہ فرشتے کفاراتِ گناہ میں جھگڑ رہے ہیں، یعنی کون ایسے عمل ہیں جو گناہوں کی معافی کا ذریعہ بنتے ہیں، میں نے تفصیلی جواب دیا۔ اسی حدیث میں پہلا جملہ یہ ہے: جماعت کے لیے پاؤں پاؤں چلنا۔ (باعثِ کفارۂ گناہ ہے)

راستہ اس طرح طے کر کے جب مسجد کے دروازے پر پہنچ جائیں تو داخل ہوتے ہوئے مسجد میں پہلا دایاں پاؤں رکھیں، پھر بایاں۔ اور فارغ ہو کر جب نکلنے لگیں تو اس کے خلاف کریں، یعنی پہلے بایاں پیر نکالیں پھر دایاں، مگر جوتا وغیرہ پہلے داہنے ہی پیر میں پہنیں کہ طریقۂ مسنونہ یہی ہے۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ سنت ہے کہ جب مسجد میں تو داخل ہو تو پہلے دایاں پاؤں ڈال اور جب نکلے تو پہلے بایاں پیر نکال۔ صحابۂ کرام ؓ کا اسی پر عمل رہا، اور ادب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ نسبتاً دائیں کو بائیں پر فضیلت ہے۔

دایاں پاؤں رکھتے ہوئے یہ دعا پڑھی جائے، مفہوم:

’’اے اﷲ! مجھ پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔‘‘

 اور جب نکلیں تو بایاں پاؤں پہلے نکالیں، اور یہ دعا پڑھتے ہوئے:

’’اے میرے اﷲ! تجھ سے تیرے فضل و بخشش کی درخواست کرتا ہوں۔‘‘

موقع ہو تو پہلے مسجد آکر دو رکعت نماز تحیۃ المسجد پڑھیں، وقتی نماز کا وقت ہو یا کوئی اور وقت ہو، البتہ اوقاتِ مکروہ میں سے کوئی وقت نہ ہو، جیسے آفتاب کے طلوع و غروب کا وقت یا زوال کا۔ حضرت کعب بن مالک ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تم میں کوئی مسجد میں جب داخل ہو تو اس کو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت نماز پڑھنی چاہیے۔

اگر کوئی اوقاتِ مکروہہ میں یا صبح و مغرب میں تحیۃ المسجد کی تلافی کرنا چاہے، تو اس کو چاہیے کہ قبلہ رُو بیٹھ کر ایک ساعت ذکر و تسبیح و تہلیل میں گزارے۔

اﷲ تعالیٰ ہمیں آداب مسجد کے سمجھنے اور پھر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مسجد کے ں پاو ں کے لیے

پڑھیں:

بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔

اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔

pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ

— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026

ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
  • کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء 
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی