لندن‘ سنگاپور کے تاجر سے ڈائنوسار کی نوواردات ضبط
اشاعت کی تاریخ: 13th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن‘ سنگاپور کے تاجر سے ڈائنوسار کی نوواردات ضبط
لندن: حکومت برطانیہ نے سنگاپور کے تاجر سے ڈائنوسار کی نایاب باقیات سمیت دیگر نوواردات کا مجموعہ بھی ضبط کر لیا ہے۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مرکزی حکام نے سنگاپور سے تعلق رکھنے والے ایک بین الاقوامی تاجر سے کروڑوں پاو¿نڈ مالیت کی ڈائنوسار کی نایاب ہڈیاں، لندن میں 9 فلیٹوں اور چینی فن پاروں کا مجموعہ ضبط کر لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ کارروائی جرائم سے حاصل شدہ دولت کی واپسی کے مقدمے کے تناظر میں کی گئی ہے۔ اعلیٰ حکام کے مطابق برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے) نے سو بنگہائی اور ان کی کمپنی سو ایمپائر لمیٹڈ کے ساتھ ایک تصفیہ کیا، جس کے تحت یہ اثاثے پروسیڈز آف کرائم ایکٹ کے تحت ضبط کیے گئے۔
یہ بات بھی علم میں رہے کہ مذکورہ قانون حکومت کو اختیار دیتا ہے کہ وہ ایسے اثاثے واپس لے سکیں جو غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے ہوں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ڈائنوسار کی تاجر سے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔