شاہ سلمان کی ہدایت پر سعودی عرب میں کل نمازِ استسقا ادا کی جائے گی
اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT
خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے سنتِ نبوی ﷺ کی پیروی میں ملک بھر میں بارش کی دعا کےلیے نمازِ استسقا کل بروز جمعرات ادا کرنے کی ہدایت دی ہے۔
اعلان میں کہا گیا ہے کہ تمام افراد توبہ واستغفار کریں، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، نیک اعمال اور صدقات میں اضافہ کریں، نمازوں اور اذکار کا اہتمام کریں۔
’لوگوں کے ساتھ آسانی اور بھلائی کا برتاؤ کریں، اور ضرورت مندوں کی مشکلات دور کریں، تاکہ اللہ تعالی اپنی رحمت سے ہمیں بارش عطا فرمائے اور ہماری حاجات پوری کرے۔‘
شاہی اعلان میں تمام اہلِ استطاعت کو نمازِ استسقا میں شریک ہونے کی ترغیب دی گئی ہے، تاکہ بندگی اور عاجزی کا اظہار ہو، اور دعا میں الحاح کے ساتھ اللہ تعالی سے رحمت وبرکت مانگی جائے۔
اعلان کے آخر میں دعا کی گئی کہ اللہ تعالیٰ ملک وقوم پر رحم فرمائے، دعائیں قبول کرے، اور نازل ہونے والی بارش کو رحمت اور برکت کا سبب بنائے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اذکار بارش کی دعا برکت توبہ واستغفار خادم حرمین شریفین رحمت سنتِ نبوی ﷺ شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نماز استسقا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اذکار بارش کی دعا برکت توبہ واستغفار خادم حرمین شریفین سنت نبوی ﷺ شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اللہ تعالی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔