دنیا کشمیریوں کی نسل کشی روکنے میں ناکام
اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT
ریاض احمدچودھری
حریت لیڈر یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک نے کہا ہے کہ دنیا میں عدم مساوات دن بدن بڑھتا جارہا ہے ،دنیا میں نسل کشی کا نیا قانون بنا اور اس نسل کشی کو روکنے میں دنیا ناکام ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کونسل نے دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر آواز اٹھائی ہے ، اس نمائش میں آرٹسٹس نے اپنی تصاویر کے ذریعے اظہار یک جہتی کیا ہے۔ دنیا کو بتانا چاہتی ہوں کہ غزہ میں براہ راست نسل کشی ہورہی ہے ،اسرائیلی فورسز وہاں مظالم ڈھا رہی ہیں، مقبوضہ کشمیر میں جاری نسل کشی پر دنیا خاموش ہے۔
یاسین ملک کو پھانسی گھاٹ کی طرف لیجایا جارہا ہے ، تہاڑ کے ڈیتھ سیل میں ہی ان کی عدالت لگائی جارہی ہے ، افضل گورو کو بھی اسی طرح پھانسی دی گئی تھی اور لاش بھی نہیں دی گئی۔ حریت قیادت کو بھی بھارت قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔اس وقت دنیا میں بڑی تباہی کے ہتھیار ہیں دنیا دوسری جنگ عظیم کو بھول جائے گی،دنیا کو اس حوالے سے آگاہ کرنے کیلئے پورا ہفتہ اس پر آواز اٹھائیں گے ، انسانوں کی آزادی کے حقوق کا خیال رکھنا ضروری ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیرمیں قابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے ماورائے عدالت قتل،بلاجواز گرفتاریاں، تشدد اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیاں روز کا معمول ہے۔ کشمیری عوام کو اپنے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر بدترین مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کیلئے یہ بہترین وقت ہے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالے کہ وہ دیرینہ تنازعہ کشمیر کو عالمی ادارے کی قراردادوں کے مطابق حل کرے۔
بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی ایک عدالت نے اپنے مادر وطن پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو چیلنج کرنے پر ضلع پلوامہ سے تعلق رکھنے والے ایک کشمیری عاشق حسین کو اشتہاری مجرم قرار دے دیاہے۔ واضح رہے مودی حکومت جدوجہد آزادی سے وابستہ تمام افراد کو اشتہاری مجرم قرار دینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ بھارت مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے الزام پر ان کی جائیدادیں ضبط کی جاسکیں۔ادھر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں حالات معمول کے مطابق ہونے کے بھارتی حکام کے دعووں کو بے بنیاد قرار دیا کہ اگر مقبوضہ علاقے کے حالات میں واقعی بہتری آئی ہے تو ہزاروں کشمیری سلاخوں کے پیچھے کیوں ہیں۔فاروق عبداللہ نے قابض بھارتی انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں پر ظلم وستم بند کرے اور جیلوں میں بند کشمیریوں کو رہا کر کے انہیں عزت ووقار کے ساتھ زندگی گزارنے دے۔حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے مقبوضہ کشمیر میں حقوق انسانی کی خلاف ورزیوں کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے بھارتی حکومت کالے قانون افسپا پر نظرثانی کرنے اور منسوخ کرنے میں ناکام رہی ہے جبکہ یہ قانون بھارتی فوجیوں کو وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ اس قانون کے تحت گزشتہ طویل عرصے سے بھارتی فوج بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔
بھارت گزشتہ 75 سال سے بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کا بے دریغ خون بہا جا رہا ہے’ لیکن اپنے اپنے مفادات کی اسیر عالمی طاقتیں اس سے صرف نظر کئے ہوئے ہیں۔ اس مسئلہ کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل کی اصل ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوتی ہے جس کے نمائندے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے بھارت نواز رویئے کے باعث یہ مسئلہ پیداہوا۔ انگریز گورنر جنرل قانوناً اور اخلاقاً اس بات کا پابند تھا کہ وہ تقسیم ہند کے ریاستوں کے بارے میں فارمولے پر عمل کراتا۔ بھارت کے غاصبانہ قبضے کے بعد بھی برطانیہ نے اس ضمن میں وہ کردار ادا نہیں کیا جو اس کا فرض بنتا تھا۔ بعد میں یہ مسئلہ عالمی سیاست کا شکار ہو گیا۔ اب جس طرح دولت مشترکہ سربراہ کانفرنس کے انعقاد کے دوران اس مسئلہ کو اجاگر کرنے کیلئے انسان دوست اور آزادی پسند حلقوں نے کوشش کی ہے’ اگر ایسی کوششیں اسی شدومد اور جذبے سے جاری رکھی گئیں تو یقینا ہمارے کشمیر کاز کو تقویت پہنچے گی۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کے ڈوگرہ راج سے آزادی کے جشن کی تقریب سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ بھارت میں کشمیریوں کی نسل کشی انتہا کو پہنچ چکی ہے وادی کی آزادی وقت کی ضرورت ہے۔ تقسیم ہند کے وقت کشمیر تقسیم کے فارمولے اور اپنے جغرافیائی اور ثقافتی تعلق کی بنا کر پاکستان کا حصہ بننا تھا مگر کانگریس نے برطانوی راج سے گٹھ جوڑ کر کے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کی سازش رچی جس کے نتیجے میں وادی میں ڈوگرا راج کے خلاف بغاوت شروع ہوئی اور مجاہدین نے مقبوضہ علاقے آزاد کرانے شروع کر دیے مجاہدی سرینگر کے قریب پہنچ چکے تھے کہ بھارتی وزیر اعظم جواہر لعل نہرو مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گئے اور کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کرتے ہوئے کشمیریوں کو حق خود ارادیت کا عالمی برادری کے سامنے وعدہ کیا۔
بھارتی حکومت کو اس بات کا اچھی طرح اندازہ تھا کہ کشمیر کے عوام کسی صورت بھی بھارت کی غلام قبول نہیں کریں گے یہی وجہ ہے کہ تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں طول دینے کے بعد بھارتی حکمران کشمیریوں سے پاکستان سے وفاداری کا انتقام لے رہے ہیں اور نسل کشی انتہا کو پہنچ چکی ہے کشمیری لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر بھی الحاق پاکستان کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہو رہے ہیں۔ بہتر ہو گا حکومت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں پر زور طریقے سے اٹھانے کے ساتھ کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کو مالی اخلاقی مدد کرے تاکہ کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے نجات مل سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کی خلاف ورزیوں انسانی حقوق کی اقوام متحدہ کشمیریوں کی کشمیر کو رہا ہے
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز