Jasarat News:
2026-06-03@02:45:16 GMT

کے ایس ای 100انڈیکس 2400پوائنٹس بڑھ گیا

اشاعت کی تاریخ: 14th, November 2025 GMT

کے ایس ای 100انڈیکس 2400پوائنٹس بڑھ گیا

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(بزنس رپورٹر)پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کو زبردست تیزی کیساتھ کاروبار کا اختتام ہوا ،کے ایس ای 100انڈیکس 2400پوائنٹس بڑھ گیا اورمارکیٹ میں 1لاکھ59ہزار اور 1لاکھ60ہزار کی 2نفسیاتی حد بحال ہو گئیں۔۔کاروباری تیزی سے مارکیٹ کے سرمائے میں 219ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 59.

74فیصد حصص کی قیمتیں بھی بڑ?ھ گئیں۔اسٹاک ماہرین کے مطابق کم قیمت حصص کی خریداری اور مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی انویسٹمنٹ نے کاروباری تیزی کو فروغ دیا جس سے مارکیٹ مثبت زون میں بند ہوئی ۔دن بھر مارکیٹ میں مختلف شعبوں، بشمول آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکس، فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیاں، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں (او ایم سیز)، پاور جنریشن اور ریفائنری سیکٹرز میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھی گئی اور کاروبار کے دوران انڈیکس 160,944پوائنٹس کی سطح پرٹریڈ ہوا۔کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100انڈیکس میں 2473پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور انڈیکس 158,183پوائنٹس سے بڑھ کر 160,657پوائنٹس پر بندہوا۔اسی طرح 835پوائنٹس کے اضافے سے کے ایس ای 30انڈیکس 48ہزار725پوائنٹس اور کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 96,039پوائنٹس سے بڑھ کر 97,208پوائنٹس پر پر جا پہنچا۔کاروباری تیزی سے مارکیٹ کے سرمائے میں 219ارب 92کروڑ48لاکھ10ہزار573روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد سرمائے کا مجموعی حجم 18286ارب93 کروڑ 94 لاکھ 25 ہزار 397روپیپر جا پہنچا۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں جمعرات کو 35ارب روپے مالیت کے 79کروڑ71لاکھ حصص کے سودے ہوئے جبکہ بدھ کو 33ارب روپے مالیت کے 75 کروڑ 72 لاکھ حصص کے سودے ہوئے تھے۔پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ روز مجموعی طور پر 477کمپنیوں میں شیئرز کا کاروبار ہوا جس میں سے 285 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ ،142میں کمی اور 50کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔ کاروبار کے لحاظ سے بینک مکرمہ، دوست اسٹیل لمیٹڈ ،فرسٹ نیشنل ایکوٹیز، بینک آف پنجاب اور کے الیکٹرک لمیٹڈ سر فہرست رہے۔ قیمتوں میں اتار چڑھاو کے اعتبار سے یونی لیور پاکستان فوڈز لمیٹڈ کا بھاو 546روپے بڑھ کر 28999 روپے ہو گیا اسی طرح 53.24 روپے کے اضافے سے زیڈ آئی ایل لمیٹڈ کے حصص کی قیمت 585.64روپے پر جا پہنچی جبکہ پی آئی اے ہولڈںگ کمپنی لمیٹڈ کا بھاو 80.91 روپے گھٹ کر 24452.05روپے ہو گیا اسی طرح 50.04روپے کی کمی سے جیلٹ پاکستان لمیٹڈ کے حصص کی قیمت 450.39 روپے پر آ گئی۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مارکیٹ میں کے ایس ای کے حصص کی

پڑھیں:

بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان

اسلام آباد:

وفاقی بجٹ میں 220 ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگانے، تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم لانے کی تجاویز ہیں، بچوں کے فارمولا دودھ، گھی، کوکنگ آئل سمیت درجنوں اشیائے خورونوش سیلز ٹیکس کے تیسرے شیڈول میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بجٹ میں سالانہ 20 کروڑ روپے سیل پر 25 ہزار روپے فکس ٹیکس دینا ہوگا جس پر تاجروں کو آڈٹ سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے، آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی شرح 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے پر زور دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اگلے مالی سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنے کے لیے بجٹ میں اضافی ٹیکس اقدامات شامل ہوں گے، نئے بجٹ میں سپر ٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی بھی تجویز ہے۔

بجٹ میں شیر خوار بچوں کے فارمولا دودھ، کیچپ، ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ اور  اس سے تیار شدہ مصنوعات سمیت درجنوں اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی ضروری اشیاء پر سیلز ٹیکس وصولی کے لیے پرچون قیمت پرنٹ کرنے کا لازمی قرار دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے لیے ان درجنوں اشیاء کو تیسرے شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔

علاوہ ازیں جن اشیائے خوردونوش اور اشیائے ضروریہ پر بھاری ٹیکس عائد ہے اسے اگلے بجٹ میں بھی برقرار رکھے جانے کا امکان ہے جس سے ان اشیاء کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبلڈ کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر پانچ روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ میں کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے جس کیلئے ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔

دریں اثنا وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ