علیحدہ صوبہ بقاکیلئے ضروری،سیاسی نعرہ سمجھناغلطی ہوگی،آفا ق احمد
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
صوبے کی تقسیم پر چراغ پا ہونے والے وزیر کو ملک توڑنے کے نعرے سنائی نہیں دیتے،چیئر مین مہاجر قومی موومنٹ
تقسیم کی لکیر توبھٹونے کھینچی تھی ہم توعملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں، مرکزی اورضلعی کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب
سندھ کے شہری علاقوںپر مشتمل علیحدہ صوبے کا قیام مہاجر وں کی بقاء کیلئے ضروری ہے یہ بات چیئر مین آفاق احمد نے مرکزی اورضلعی کمیٹیوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ حکمراں اسے سیاسی نعرہ سمجھنے کی غلطی نہ کریں ۔آفاق احمد نے کہا کہ صوبے کی تقسیم کی بات پر چراغ پاوزیرکو ملک توڑنے کے نعرے سنائی نہیں دیتے ۔انہیںاُنکے صوبے میں ملک کے خلاف نعرے لگانے اور ملک توڑنے کی بات کرنے والوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے ہونگے۔آفاق احمدنے کہا کہ صوبے کی تقسیم اور شہری علاقوں پر مشتمل نئے صوبے کا قیام پیپلز پارٹی کی کرپشن سے ملک کو بچانے کیلئے ضروری ہے ،نئے صوبے کے قیام سے پاکستان کامعاشی حب ترقی کریگاجو خوشحال اور مضبوط پاکستان کیلئے ضروری ہے۔آفاق احمد نے کہا کہ سندھ کی تقسیم کی لکیر زوالفقار علی بھٹونے کھینچی تھی ہم تو اسے عملی جامہ پہنانا چاہتے ہیں ۔آفاق احمد نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ آنے والے مہینے میںاجرک ڈے کے نام پر علیحدگی پسندوں کا کلہاڑی والے جھنڈے کے ساتھ کراچی میںیلغاراورملک دشمن نعروں کو روکنے کیلئے مؤثراقدامات کرے،اگر ملک کے خلاف نعروں سے شہریوں میںاشتعال پھیلاتو اسکی ذمہ دار سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ا فاق احمد نے کیلئے ضروری نے کہا کہ کی تقسیم
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔