سندھ کی تقسیم کا معاملہ پاکستان کی سیاست میں ایک حساس موضوع رہا ہے جو اب ایک بار پھر سر اٹھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ کوئی کیک نہیں جو بانٹ دیا جائے، پیپلز پارٹی کا مصطفیٰ کمال کے بیان پر ردعمل

وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے پیپلز پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے  کہ اگرآپ ایم کیو ایم کی بات نہیں سنتے ہیں تو سندھ میں صوبہ بنے گا کیونکہ آپ حالات ایسے بنارہے ہیں اور لوگوں کو محرومیوں کا سامنا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کے مسائل اور ثقافت میں بڑا فرق ہے۔ ان کے مطابق، شہری علاقوں کے مسائل پر صوبائی حکومت کی جانب سے مناسب توجہ نہیں دی جاتی اور ایک نئے صوبے سے بہتر انتظامی کنٹرول، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور شہری علاقوں کے لوگوں کو زیادہ نمائندگی مل سکے گی۔

سندھ کی تقسیم کی سخت مخالفت صوبے کی بڑی سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھی قوم پرست جماعتوں کی طرف سے کی جاتی ہے۔

اس حوالے سے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار رفعت سعید کا کہنا ہے کہ صوبوں کی تقسیم کسی کے حق میں نہیں ہے ویسے تو عام آدمی یا ورکرز کے لیے یہ اچھا لگے گا جیسے قوم پرست نتظیموں نے سندھ کی علیحدگی کے نعرے لگائے تھے۔

مزید پڑھیے: ’دودھ دینے والی گائے، کہیں مر ہی نہ جائے‘: مصطفیٰ کمال کی شہری علاقوں کی محرومیوں‘ پر گفتگو

انہوں نے کہا کہ اس سے سندھ علیحدہ تو نہیں ہوا ایسے ہی مہاجر صوبے کا نعرہ لگا کر شوشا چھوڑ دیا جاتا ہے کچھ لوگوں کو سبز باغ دیکھا دیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر یہ ممکن نہیں اور اگر ہوا ایسا تو حالات بہت خراب ہو سکتے ہیں۔

رفعت سعید کا کہنا ہے کہ اس ملک میں سیاست کی صورت حال اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ یہ اتنا آسان کام نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی بنیاد پر بھی صوبہ بنانے کو صوبے کی تقسیم سمجھا جاتا ہے اور صوبے کی تقسیم کسی صورت قبول نہیں کی جا رہی سب مرنے مارنے کو تیار ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس ملک میں بات چیت کی سیاست نہیں رہی جب مکالمہ ہوا کرتا تھا لیکن اب نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرزا جواد بیگ ہوا کرتے تھے جنہوں نے کہا تھا کہ انتظامی طور پر پاکستان کے 32 صوبے بنا دو تو کہ مسائل حل ہو سکیں، بات کی جاتی ہے پنجاب کی تو وہاں زبان کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہے وہاں بھی بات سب کرتے ہیں لیکن اس وقت عملی طور پر ممکن نہیں ہے۔

مزید پڑھیں: ایم کیو ایم کی لوکل باڈیز کے حوالے سے مجوزہ ترمیم پر مزید مشاورت کی جائےگی، وزیراعظم

ایم کیو ایم پاکستان کے حوالے سے رفعت سعید کا کہنا تھا کہ 27 ویں آئینی ترمیم میں یہ مطمئن تھے کہ ان کی بات رکھی جائے گی لیکن ان کی باتوں کو جگہ نہ مل سکی، ہو سکتا ہے انہیں 28 ویں ترمیم میں کوئی آسرا دیا جائے۔

رفعت سعید نے کہا کہ ایم کیو ایم کی مجبوری یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ جو بات کہے گی اس کو ماننی ہوگی اور ویسے بھی اب یہ تقسیم ہوچکی ہے اور پہلے جیسی ایم کیو ایم نہیں رہی اور نہ ہی اسے ماضی والی ایم کیو ایم بننے دیا جائے گا۔

سینیئر صحافی اور تجزیہ کار حمید سومرو نے وی نیوز کو بتایا کہ صوبے کے معاملات 70 کی دہائی میں شروع ہوئے ممتاز علی بھٹو کے دور میں وہ بھی لسانی بنیاد پر اس وقت یہ آواز سامنے آئی کہ شہری علاقوں کو الگ حیثیت دی جائے اس کے بعد پھر ایم کیو ایم سے نقشے بھی برآمد ہوئے اور مطالبات بھی سامنے آئے۔

انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم اس معاملے کو مہاجر کارڈ کے طور پر استعمال کرتی ہے اور جیسے پیپلز پارٹی سندھ کارڈ کھیلتی ہے ویسے ایم کیو ایم مہاجر کارڈ کھیلتی ہے کیوں کہ یہ لسانی بنیاد پر تقسیم چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: ایم کیو ایم پنجاب کا اجلاس، بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان

ان کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم سیاسی ہمدردیاں حاصل کر رہی ہے اس وقت مسائل حل نہ ہونے کے باعث لوگوں میں احساس محرومی ہے اور یہ اسی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبہ بننا اس لیے ممکن نہیں ہے کیوں کہ آئین کے مطابق متعلقہ صوبے کی اسمبلی ایک تہائی اکثریت سے بل پاس کرے گی، اس کے بنا تو ممکن ہی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ صوبائی کارڈ ہے جو ہر صوبے میں مختلف اوقات میں استعمال کیا جاتا ہے لیکن سوائے عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے اس سے حاصل کچھ نہیں ہوگا۔

تاجر رہنما عتیق میر کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ سندھ حکومت کی کارکردگی ناقص اور گورننس بدترین ہے جس کی وجہ سے نہ صرف کراچی بلکہ پورے سندھ کی ترقی کو رکی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے تاجر اور عوام کبھی فیلڈ مارشل کو تو کبھی چیف جسٹس آف پاکستان کو پکارتے ہیں اور کراچی کے انتظامی معاملات سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے وزیر اعظم پاکستان سے اپیل کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: نئے صوبے 3 ٹیلی فون کی مار ہیں، پیپلز پارٹی، ن لیگ اور ایم کیو ایم کو فون کریں اور ترمیم کرالیں، حافظ نعیم

عتیق میر کے مطابق کراچی الگ صوبہ نہ بھی بنائیں لیکن اس کا انتظامی ڈھانچہ سندھ سے الگ ہونا چاہیے تا کہ کراچی کے عوام و تاجر کراچی اور ملک کے لیے مل کر کام کریں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت کراچی کا پورا ڈھانچہ درہم برہم ہے جبکہ میئر کراچی جو پیپلز پارٹی کے ہیں اور ان کا تعلق بھی کراچی سے ہے ان کے بس میں بھی کچھ نہیں ہے۔

عتیق میر نے کہا کہ اگر لفظ صوبہ پیپلز پارٹی کو گراں گزرتا ہے تو صوبہ بھلے نہ بنے لیکن اس کے معاملات الگ ہوں جو صرف اور صرف کراچی کے لیے ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایم کیو ایم ایم کیو ایم اور مسئلہ کراچی پیپلز پارٹی علیحدگی پسند جماعتیں مسئلہ کراچی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ایم کیو ایم ایم کیو ایم اور مسئلہ کراچی پیپلز پارٹی علیحدگی پسند جماعتیں مسئلہ کراچی انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی شہری علاقوں کی تقسیم کراچی کے بنیاد پر سندھ کی ہیں اور نہیں ہے صوبے کی کے لیے ہے اور

پڑھیں:

کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار

اسکرین گریب/ ایکس 

کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون کو گرفتار کرلیا گیا۔

سولجر بازار کے علاقے میں پولیس نے کارروائی کرکے موٹر سائیکل لفٹنگ میں ملوث خاتون ملزمہ کو گرفتار کیا ہے، پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کارروائی کرکے ملزمہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کی گرفتاری سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے عمل میں آئی ہے، ملزمہ اپنے شوہر کے ہمراہ موٹر سائیکل لفٹنگ کی درجنوں وارداتوں میں ملوث رہی ہے۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں دونوں میاں بیوی کو موٹر سائیکل لے جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ملزمہ کے قبضے سے ایک موٹر سائیکل بھی برآمد کی گئی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمہ اور فرار شوہر کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا مزید تفتیش جاری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار 3 ڈاکو ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک 
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن