عوامی پارکس کا معاملہ، آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناع دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
آئینی عدالت میں کراچی کے عوامی پارکس کا کھیلوں کیلئے تجارتی مقاصد کے استعمال کا کیس زیر سماعت ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میونسپل کارپوریشن کی سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل پر سماعت ہوئی۔ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی آئینی عدالت نے سماعت کی۔
وکیل کے ایم سی کا کہنا تھا کہ یہ کیس کے ایم سی کے اختیارات سے متعلق ہے۔ کے ایم سی نے قرارداد کے زریعے عوامی پارکس کو کھیلوں کیلئے استعمال کرنے کی منظوری دی۔
وکیل کے ایم سی کا کہنا تھا کہ سندھ ہائی کورٹ نے قرار دیا کے ایم سی کو ایسا کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ہم نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر کر رکھی ہے۔
آئینی عدالت کا جواب میں کہنا تھا کہ یہ مفاد عامہ کا کیس ہے۔ آئینی عدالت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا ہے۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 نومبر تک ملتوی کردی۔ وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ ہمارے خلاف توہین عدالت کی درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے آئینی عدالت کہنا تھا کہ کے ایم سی عدالت نے
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔