روسی بحری جہاز 5 روزہ خیرسگالی دورے پر بنگلہ دیش پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
روسی بحری جہاز گریمیایشچی پیر کو چٹ گرام بندرگاہ پہنچا جہاں یہ بنگلہ دیش اور روس کے درمیان بحری تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے 5 روزہ خیرسگالی دورے پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حسینہ واجد کی سزا پر عالمی ماہر کا تبصرہ، بنگلہ دیش میں سیاسی اثرات کا امکان
جہاز کی آمد پر چٹ گرام نیول ایریا کے کمانڈر کی جانب سے چیف اسٹاف آفیسر نے افسران اور عملے کا استقبال کیا۔
باضابطہ پروٹوکول کے مطابق بنگلہ دیش نیوی کے سیریمنیئل بینڈ نے پرفارمنس دی۔
روس کے دفاعی اٹاشی اور اعلیٰ بنگلہ دیشی نیوی اہلکار بھی موجود تھے تاکہ دورے پر آئے عملے کو خوش آمدید کہا جا سکے۔
جہاز کے بنگلہ دیش کی بحری حدود میں داخل ہونے سے قبل بی این ایس عمر فاروق نے باضابطہ طور پر اس کا استقبال اور اس کی اسکورٹ کی۔
دورے کے دوران گرامیایشچی کے کمانڈنگ آفیسر اور روس کے ملٹری اٹاشی، اپنے وفد کے ہمراہ، چٹ گرام نیول ایریا کے کمانڈر، بی این فلیٹ کے کمانڈر، ایریا سپرنٹنڈنٹ ڈاک یارڈ اور چٹ گرام پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین سے ملاقات کریں گے۔
مزید پڑھیے: اگر پابندی نہیں ہٹی تو بنگلہ دیش میں الیکشن نہیں ہونے دیں گے، حسینہ واجد کے بیٹے کی دھمکی
روسی افسران اور عملہ ریڈکن پوائنٹ میں بنگلہ دیش نیول اکیڈمی پر پھولوں کی چادر رکھنے، بحری جہازوں اور بیسز کے دورے اور مختلف تاریخی اور ثقافتی مقامات کے مشاہدے کے لیے بھی جائیں گے۔ بنگلہ دیش نیوی کے اہلکار بھی روسی جہاز کا دورہ کریں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ دورہ دونوں بحریہ کے اہلکاروں کو ایک دوسرے کے آپریشنز کا مشاہدہ کرنے، پیشہ ورانہ تجربات بانٹنے اور مہارتیں سیکھنے کا موقع فراہم کرے گا جس سے باہمی تعاون اور سمجھ بوجھ میں اضافہ ہوگا۔ روس نے ماضی میں بھی بنگلہ دیش کے لیے دوستانہ مشن کے تحت بحری جہاز بھیجے ہیں۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش اور قطر کے درمیان دفاعی تعاون کے نئے دور کا آغاز، اہم معاہدے پر دستخط
توقع ہے کہ روسی جہاز 21 نومبر 2025 کو بنگلہ دیش سے روانہ ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش روسی بحری جہاز گریمیایشچی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش روسی بحری جہاز بنگلہ دیش بحری جہاز چٹ گرام کے لیے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔