سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت شیخ حسینہ واجد کو بھارت کے حوالے کرنے کا پابند
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
بھارت میں موجود سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو ملکی عدالت نے انسانیت کے خلاف جرائم میں موت کی سزا سنا دی ہے۔
بنگلہ دیش کے ایک خصوصی ٹریبونل نے ایک طویل عدالتی عمل کے بعد شیخ حسینہ واجد کو انسانیت کے خلاف جرائم میں موت کی سزا سنائی ہے۔
مزید پڑھیں: انسانیت کیخلاف جرائم: بنگلہ دیشی عدالت نے حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی
شیخ حسینہ واجد پر الزام ہے کہ انہوں نے 2024 کے طلبہ مظاہروں کو بے رحمانہ طریقے سے کچلنے کے احکامات دیے، جس کے نتیجے میں اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 1400 افراد ہلاک ہوئے۔
شیخ حسینہ واجد کو جب بنگلہ دیش کی عدالت نے سزا سنا دی ہے تو ان کی بھارت میں موجودگی اب سوالیہ نشان بن گئی ہے کیوں کہ دونوں ممالک کے مابین اس حوالے سے ایک معاہدہ موجود ہے۔
اس معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے سنگین جرائم اور دہشتگردی کے خلاف تعاون کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے، بشمول ایسے جرائم جو طویل سزا یا موت کی سزا کا باعث بن سکتے ہیں، بشرطیکہ ان جرائم کو دونوں ممالک میں قابلِ تعاقب سمجھا جائے۔
یہاں یہ بات قابلِ غور ہے کہ بنگلہ دیش نے ماضی میں اسی معاہدے کے تحت بعض مطلوب افراد کو بھارت کے حوالے کیا، جیسے کہ یو ایل ایف اے کے رہنما انوپ چیتیا کی حوالگی۔ جبکہ اسی طرح دیگر مطلوب افراد کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے۔
بھارت نے مطلوب شخص تہوار رانا کو بھی امریکا سے واپس لانے میں کامیابی حاصل کی تھی اور مختلف ریڈ کارنر نوٹس جاری کیے۔
اب سوال یہ ہے کہ وہی بھارت، جس نے اپنی بین الاقوامی اور دوطرفہ قانونی وابستگیوں کا بارہا اظہار کیا ہے، وہ شیخ حسینہ کو پناہ دے کر کس منطق کی بنیاد پر اپنی اصولی سطح کو پسِ پشت ڈال رہا ہے؟ وہ ایسے رہنما کو کیوں تحفظ دے رہا ہے، جس پر الزام ہے کہ اس نے نہتے طلبہ کو کچلنے کی ہدایت دی۔
مزید پڑھیں: سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت کا حکم، ’اپنے کیے کی سزا مل گئی‘
مبصرین کے مطابق نئی دہلی کو چاہیے کہ وہ بنگلہ دیش کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کرے اور شیخ حسینہ کی حوالگی کے امکانات پر غور کرے، یا پھر واضح کرے کہ اس معاملے میں اس کے قانون کی حکمرانی کے اصول اچانک کیوں لاگو نہیں ہوتے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بھارت سنگین جرائم شیخ حسینہ واجد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بھارت سنگین جرائم شیخ حسینہ واجد شیخ حسینہ واجد کو بنگلہ دیش کی سزا
پڑھیں:
ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
ارب پتی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کا مصنوعی ذہانت پر مبنی پلیٹ فارم گروک امیجن (Grok Imagine) رواں سال کے اختتام سے پہلے قدیم یونانی رزمیہ شاہکار اوڈیسی پر مبنی ایک مکمل فلم تیار کرے گا۔ مسک کا کہنا ہے کہ یہ فلم شاعر ہومر کی اصل تخلیق کے مطابق ہوگی اور تاریخی اعتبار سے بھی زیادہ درست انداز میں پیش کی جائے گی۔
ایلون مسک نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ اے آئی کے ذریعے بنائی جانے والی یہ فلم ہومر کے اصل فن اور کہانی کی حقیقی روح کی عکاسی کرے گی۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ تقریباً تین منٹ طویل ایک اے آئی ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں اوڈیسیئس اور کلیپسو کے درمیان ایک منظر دکھایا گیا ہے۔
Before this year ends, Grok Imagine will make a full-length movie of The Odyssey that is historically accurate and true to the art of Homer https://t.co/bVHzUmY9WN
— Elon Musk (@elonmusk) July 22, 2026اس سے قبل بھی ایلون مسک نے ایک صارف کی اس تجویز کی حمایت کی تھی کہ ہدایت کار میل گبسن تقریباً 100 ملین ڈالر کی لاگت سے اوڈیسی پر ایسی فلم بنائیں جس میں تاریخی طور پر درست جہاز، ہتھیار، زرہیں، کردار اور ہومر کی اصل نظم کے مکالمے شامل ہوں۔ اس تجویز پر مسک نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا تھا، ’میں تیار ہوں۔‘
دوسری جانب ایلون مسک حالیہ دنوں میں برطانوی نژاد امریکی فلم ساز کرسٹوفر نولن کی فلم اوڈیسی پر بھی سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ نولن نے ایوارڈز حاصل کرنے کی غرض سے اصل داستان میں تبدیلیاں کیں۔ انہوں نے فلم کی کاسٹنگ پر بھی اعتراض اٹھایا، خاص طور پر اداکارہ لوپیٹا نیونگو کو ہیلن آف ٹرائے کے کردار میں لینے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ ایک موقع پر نولن کو ’نسل پرستانہ رویہ رکھنے والا‘ فلم ساز بھی قرار دیا۔
تاہم ایلون مسک کی تنقید کے باوجود کرسٹوفر نولن کی اوڈیسی نے باکس آفس پر شاندار آغاز کیا ہے۔ باکس آفس رپورٹس کے مطابق فلم نے ریلیز کے پہلے ہفتے میں دنیا بھر سے 264.06 ملین ڈالر سے زائد کا بزنس کیا، جس کے بعد اسے رواں برس کی نمایاں کامیاب فلموں میں شمار کیا جا رہا ہے۔