WE News:
2026-06-03@03:20:36 GMT

شیخ حسینہ کو اپنے ہی قائم کردہ عدالت نے سزائے موت سنا دی

اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT

شیخ حسینہ کو اپنے ہی قائم کردہ عدالت نے سزائے موت سنا دی

بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو اسی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نامی عدالت اسی عدالت نے موت کی سزا سنا دی جو انہوں نے خود قائم کیا تھا۔

انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) 2010 میں حسینہ کی عوامی لیگ حکومت نے 1971 کی جنگ کے دوران پیش آنے والے مظالم کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے لیے بنائی تھی۔

یہ بھی پڑھیے: انسانیت کیخلاف جرائم: بنگلہ دیشی عدالت نے حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی

ابتدائی برسوں میں اس ٹریبونل نے کئی اہم رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کیں، خصوصاً جماعتِ اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینیئر سیاستدانوں کو جنگی جرائم میں سزا سنائی گئی، جن میں سے بعض کو پھانسی بھی دی گئی۔

تاہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹریبونل پر نیوٹرل شواہد کے فقدان، تیز رفتار کارروائیوں اور سیاسی انتقام کے الزامات عائد کیے۔ حسینہ حکومت نے ان اعتراضات کو ہمیشہ مسترد کیا۔

تنازعات کے باوجود، ٹریبونل حسینہ حکومت کا ایک طاقتور عدالتی ہتھیار سمجھا جاتا تھا، جسے نہ صرف وسعت دی گئی بلکہ سختی سے اس کا دفاع بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ

اگست 2024 میں حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد منظر نامہ یکسر بدل گیا۔ نئی عبوری حکومت نے ٹریبونل کی ازسرِ نو تشکیل کرتے ہوئے سابق حکومت کے دور میں ہونے والے مبینہ ماورائے عدالت قتل، تشدد اور احتجاجی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا۔

اسی سلسلے میں تاریخ ساز پیش رفت ہوئی جب ٹریبونل نے پہلی بار شیخ حسینہ، سابق وزیر داخلہ اور سابق پولیس سربراہ کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے کی سماعت کی۔ اس طرح وہ عدالت جو ایک دہائی تک سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہوتی رہی، پہلی بار اس کے بانیوں کو کٹہرے میں لے آئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔

عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔

(جاری ہے)

درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا