شیخ حسینہ کو اپنے ہی قائم کردہ عدالت نے سزائے موت سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو اسی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل نامی عدالت اسی عدالت نے موت کی سزا سنا دی جو انہوں نے خود قائم کیا تھا۔
انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل (آئی سی ٹی) 2010 میں حسینہ کی عوامی لیگ حکومت نے 1971 کی جنگ کے دوران پیش آنے والے مظالم کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے لیے بنائی تھی۔
یہ بھی پڑھیے: انسانیت کیخلاف جرائم: بنگلہ دیشی عدالت نے حسینہ واجد کو سزائے موت سنا دی
ابتدائی برسوں میں اس ٹریبونل نے کئی اہم رہنماؤں کے خلاف کارروائیاں کیں، خصوصاً جماعتِ اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے سینیئر سیاستدانوں کو جنگی جرائم میں سزا سنائی گئی، جن میں سے بعض کو پھانسی بھی دی گئی۔
تاہم عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹریبونل پر نیوٹرل شواہد کے فقدان، تیز رفتار کارروائیوں اور سیاسی انتقام کے الزامات عائد کیے۔ حسینہ حکومت نے ان اعتراضات کو ہمیشہ مسترد کیا۔
تنازعات کے باوجود، ٹریبونل حسینہ حکومت کا ایک طاقتور عدالتی ہتھیار سمجھا جاتا تھا، جسے نہ صرف وسعت دی گئی بلکہ سختی سے اس کا دفاع بھی کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ واجد کو سزائے موت دینے کا مطالبہ
اگست 2024 میں حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد منظر نامہ یکسر بدل گیا۔ نئی عبوری حکومت نے ٹریبونل کی ازسرِ نو تشکیل کرتے ہوئے سابق حکومت کے دور میں ہونے والے مبینہ ماورائے عدالت قتل، تشدد اور احتجاجی مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کی تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا۔
اسی سلسلے میں تاریخ ساز پیش رفت ہوئی جب ٹریبونل نے پہلی بار شیخ حسینہ، سابق وزیر داخلہ اور سابق پولیس سربراہ کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے کی سماعت کی۔ اس طرح وہ عدالت جو ایک دہائی تک سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال ہوتی رہی، پہلی بار اس کے بانیوں کو کٹہرے میں لے آئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔