مقررین کا کہنا تھا کہ حضرت فاطمہ (س) کی زندگی میں عقیدہ، اخلاق، خدمت، شجاعت اور سماجی ذمہ داری کے وہ روشن نقوش موجود ہیں جنہیں آج کے معاشرے میں از سرِ نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس

اسلام ٹائمز۔ ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کے زیرِ اہتمام بمنہ سرینگر میں ایک پُروقار اور روحانی محفل منعقد ہوئی جس میں "گمشدہ کرداروں کی تلاش" کے عنوان کے تحت سیدہ کائنات حضرت فاطمہ زہرا (س) کے فضائل، انکی سیرتِ مطہرہ اور ان کے انقلابی کردار کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ محفل نمازِ مغربین کے فوراً بعد حاجی محمد صفدر کمپلیکس بمنہ میں شروع ہوئی، جس میں علماء، دانشوران، نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام میں شریک مقررین نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ آج کی نئی نسل معرفتِ فاطمیہ اور اخلاقی و روحانی اقدار سے کس قدر دور ہوتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے اس قول کا خصوصی حوالہ دیا گیا "ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری جواں نسل، ہمارا معاشرہ کس معرفت کے فقدان کا شکار ہے، وہ اخلاقی عنصر اور معرفت کا گمشدہ خزانہ حضرت فاطمہ (س) اور دیگر مقدس ہستیوں کے وجود میں تلاش کرنا اور اسے بیان کرنا چاہیئے"۔

اس معنوی محفل سے مولانا آغا سید محمد رضوی، مولانا شیخ غلام حسین متو، مولانا اقبال حسین میر نے خطاب کیا اور سیرتِ فاطمیہ کو عصر حاضر کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ حضرت فاطمہ (س) کی زندگی میں عقیدہ، اخلاق، خدمت، شجاعت اور سماجی ذمہ داری کے وہ روشن نقوش موجود ہیں جنہیں آج کے معاشرے میں از سرِ نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ محفل میں قاری مشرف حسین صوفی اور قاری ساجد علی راتھر نے تلاوتِ قرآنِ مجید سے دلوں کو معطر کیا۔ نعت خوان عاشق حسین نے بارگاہِ رسالت (ص) میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے جبکہ نوحہ خوان آصف علی کشمیری اور عقیل فدا نے سیدہ طاہرہ (س) کی مظلومیت اور ان کے مصائب کو نہایت سوز و گداز کے ساتھ پیش کیا جس سے محفل کا ماحول مزید پرنور ہوگیا۔ ذاکرِ اہلبیتؑ ماسٹر محمد صادق نے سیرتِ فاطمہ (س) کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی جانب سے شرکاء کی سہولت کے لئے معقول انتظامات کئے گئے تھے۔ رجسٹریشن اور نشست و طعام کے علاوہ پروگرام کے اختتام پر نیازِ فاطمی بھی پیش کی گئی۔.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: حضرت فاطمہ

پڑھیں:

آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار

آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔

یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔

اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔

شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع