ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
مقررین کا کہنا تھا کہ حضرت فاطمہ (س) کی زندگی میں عقیدہ، اخلاق، خدمت، شجاعت اور سماجی ذمہ داری کے وہ روشن نقوش موجود ہیں جنہیں آج کے معاشرے میں از سرِ نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
ایامِ فاطمیہ کے سلسلے میں مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی روح پرور مجلس
اسلام ٹائمز۔ ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کے زیرِ اہتمام بمنہ سرینگر میں ایک پُروقار اور روحانی محفل منعقد ہوئی جس میں "گمشدہ کرداروں کی تلاش" کے عنوان کے تحت سیدہ کائنات حضرت فاطمہ زہرا (س) کے فضائل، انکی سیرتِ مطہرہ اور ان کے انقلابی کردار کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا گیا۔ محفل نمازِ مغربین کے فوراً بعد حاجی محمد صفدر کمپلیکس بمنہ میں شروع ہوئی، جس میں علماء، دانشوران، نوجوانوں اور خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام میں شریک مقررین نے اس بات پر گہری تشویش ظاہر کی کہ آج کی نئی نسل معرفتِ فاطمیہ اور اخلاقی و روحانی اقدار سے کس قدر دور ہوتی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے اس قول کا خصوصی حوالہ دیا گیا "ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہماری جواں نسل، ہمارا معاشرہ کس معرفت کے فقدان کا شکار ہے، وہ اخلاقی عنصر اور معرفت کا گمشدہ خزانہ حضرت فاطمہ (س) اور دیگر مقدس ہستیوں کے وجود میں تلاش کرنا اور اسے بیان کرنا چاہیئے"۔اس معنوی محفل سے مولانا آغا سید محمد رضوی، مولانا شیخ غلام حسین متو، مولانا اقبال حسین میر نے خطاب کیا اور سیرتِ فاطمیہ کو عصر حاضر کے لئے بہترین نمونہ قرار دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ حضرت فاطمہ (س) کی زندگی میں عقیدہ، اخلاق، خدمت، شجاعت اور سماجی ذمہ داری کے وہ روشن نقوش موجود ہیں جنہیں آج کے معاشرے میں از سرِ نو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ محفل میں قاری مشرف حسین صوفی اور قاری ساجد علی راتھر نے تلاوتِ قرآنِ مجید سے دلوں کو معطر کیا۔ نعت خوان عاشق حسین نے بارگاہِ رسالت (ص) میں عقیدت کے پھول نچھاور کئے جبکہ نوحہ خوان آصف علی کشمیری اور عقیل فدا نے سیدہ طاہرہ (س) کی مظلومیت اور ان کے مصائب کو نہایت سوز و گداز کے ساتھ پیش کیا جس سے محفل کا ماحول مزید پرنور ہوگیا۔ ذاکرِ اہلبیتؑ ماسٹر محمد صادق نے سیرتِ فاطمہ (س) کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ مطہری فکری و ثقافتی مرکز کشمیر کی جانب سے شرکاء کی سہولت کے لئے معقول انتظامات کئے گئے تھے۔ رجسٹریشن اور نشست و طعام کے علاوہ پروگرام کے اختتام پر نیازِ فاطمی بھی پیش کی گئی۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حضرت فاطمہ
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔