data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے کپتان پیٹ کمنز کی جانب سے خریدا گیا قدیم گھر اپنی حیرت انگیز قیمت اور تاریخی حیثیت کے باعث خبروں کی زینت بن گیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پیٹ کمنز نے سڈنی کے ایک مہنگے اور پرتعیش ساحلی علاقے میں 137 سال پرانا ایک شاندار گھر خریدا ہے، جسے مقامی طور پر ایک تاریخی ورثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ گھر 1888 میں تعمیر ہوا تھا اور اپنی کلاسیکی طرزِ تعمیر اور خوبصورت مقام کے باعث انتہائی نایاب سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق آسٹریلوی کپتان نے یہ دو منزلہ گھر تقریباً 16 ملین آسٹریلوی ڈالر میں خریدا ہے۔ 730 اسکوائر میٹر پر مشتمل اس وسیع رہائش گاہ میں پانچ بیڈ رومز اور چار باتھ رومز موجود ہیں۔ ماضی میں یہ گھر آسٹریلیا کی کئی معروف اور امیر شخصیات کے زیرِ ملکیت رہ چکا ہے۔ پیٹ کمنز اور ان کی اہلیہ بیکی بوسٹن، جو پیشے کے اعتبار سے ایک انٹیرئیر ڈیزائنر ہیں، نے یہ خریداری خاموشی سے مکمل کی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 16 ملین ڈالر مالیت کا یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیٹ کمنز آسٹریلیا کے سب سے زیادہ کمانے والے ایتھلیٹس میں شامل ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق وہ اپنے کرکٹ کنٹریکٹس، اسپانسرشپس اور اشتہارات کے ذریعے سالانہ تقریباً 10 ملین ڈالر کماتے ہیں۔

واضح رہے کہ کمنز اس سے قبل 2021 میں 9.

3 ملین ڈالر کا گھر خرید چکے ہیں، جبکہ 3.7 ملین ڈالر مالیت کا ایک اپارٹمنٹ فروخت بھی کر چکے ہیں۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ملین ڈالر پیٹ کمنز کے مطابق

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی

امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، عالمی منڈی میں تشویش کی لہر
  • سونے کی قیمت میں نمایاں کمی،فی تولہ نئی قیمت جانئے
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی