مقامی حکومتوں کی تشکیل اٹھارویں ترمیم کی منسوخی نہیں بلکہ آئینی ضمانت ہے، فیصل سبزواری
اشاعت کی تاریخ: 11th, November 2025 GMT
سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینئر متحدہ رہنما نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایک وفاقی دارالحکومت کے بجائے چار صوبائی مراکز بن گئے ہیں جہاں ساری طاقت مرکوز ہو چکی ہیں، جبکہ آئین کا آرٹیکل 140-اے صراحت سے کہتا ہے کہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے انتخابات کروائیں اور انہیں سیاسی، انتظامی، اور مالیاتی اختیارات تفویض کریں۔ اسلام ٹائمز۔ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما سینیٹر فیصل سبزواری نے ایوان بالا (سینیٹ) میں 27ویں آئینی ترمیم پر گفتگو میں مقامی حکومتوں کی اہمیت اور اس سلسلے میں آئینی وضاحتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں تاسف کے ساتھ یہ دور دیکھنا پڑتا ہے کہ جب عروج کے وقت ہم سیاستدان انصاف، اصول پسندی اور میرٹ کو بھول جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مسلح دفاعی افواج کی جو خدمات اور وقار میں اضافے کی کوشش کی گئی ہے، اس کی تائید کرتے ہیں، خاص کر ایسے نازک وقت میں جب مشرقی و مغربی سرحدوں پر خطرات موجود ہیں اور ہم نے دہائیوں تک اپنی سیاسی حکمت عملیوں اور کوتاہ نظری کی وجہ سے پاکستان میں موجود دہشت گردی اور افغان طالبان کو الگ الگ ماننے سے نفی کیے رکھا۔
سینیٹر سبزواری نے مقامی حکومتوں کے اختیارات پر بات کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تصور بالکل غلط ہے کہ بااختیار مقامی حکومتوں کا مقصد 18ویں آئینی ترمیم کو منسوخ (رول بیک) کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئینی ترامیم وقت کے ساتھ ساتھ مزید وضاحتیں فراہم کرنے کے لیے آتی ہیں، اور 18ویں ترمیم کی روح یہ تھی کہ وفاق سے جو اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے، وہ مزید آگے ان شہروں اور شہریوں تک پہنچیں جو صوبائی حکومتوں کے زیرِ تسلط رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد ایک وفاقی دارالحکومت کے بجائے چار صوبائی مراکز بن گئے ہیں جہاں ساری طاقت مرکوز ہو چکی ہیں، جبکہ آئین کا آرٹیکل 140-اے صراحت سے کہتا ہے کہ صوبائی حکومتیں مقامی حکومتوں کے انتخابات کروائیں اور انہیں سیاسی، انتظامی، اور مالیاتی اختیارات تفویض کریں۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مقامی حکومتوں حکومتوں کے نے کہا کہ
پڑھیں:
بہروز سبزواری نے پہلی بیوی کے ہوتے دوسری شادی کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا
پاکستان کے سینئر اداکار بہروز سبزواری اپنی بے مثال اداکاری اور صاف گوئی کی بدولت شوبز انڈسٹری میں منفرد مقام رکھتے ہیں۔
انہوں نے خدا کی بستی، تنہائیاں، یوںہی، زندگی گلزار ہے، ہمسفر، خمار سمیت متعدد مقبول ڈراموں میں اپنی کارکردگی سے ناظرین کے دل جیتے۔
بہروز سبزواری تھیٹر اور ریڈیو میں بھی نمایاں شناخت رکھتے ہیں اور مشہور اسٹیج ڈرامہ تعلیمِ بالغاں میں ان کا کردار آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔
فلم نیلوفر میں ان کی اداکاری نے بھی شائقین سے خوب داد سمیٹی۔
حال ہی میں وہ وصی شاہ کے پروگرام میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے ایک سے زائد شادیوں پر کھل کر بات کی۔
گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر کسی مرد کی پہلی اہلیہ زندہ ہو تو وہ اللہ کی بڑی نعمت ہے، چاہے وہ کسی بھی مزاج کی ہو۔
ان کے مطابق پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کرنا بڑا امتحان بن جاتا ہے۔
انہوں نے مزاحاً کہا کہ دوسری شادی کے بعد زندگی کس رخ پر جاتی ہے، وہ یہ بات کہنا بھی نہیں چاہتے۔ اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے اقرار الحسن کی مثال بھی دی جو تین شادیاں کر چکے ہیں۔
بہروز نے بتایا کہ وہ حال ہی میں ایک فلائٹ میں ان کے ساتھ تھے، اسی لیے فوراً ذہن میں آگئے۔
آخر میں انہوں نے سخت الفاظ استعمال کرنے پر معذرت بھی کی۔
واضح رہے کہ معروف اداکاروں عابد علی، شبیر جان، محمود اسلم سمیت کرکٹر شعیب ملک نے بھی پہلی بیوی کی موجودگی میں دوسری شادی کی۔