عمران خان سے مشاورت کے بعد ترمیم پر ردعمل دیں گے، بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم 27 ویں ترمیم کو رد کرتے ہیں ،کوئی بھی آئینی ترمیم فارم 47 والی اسمبلی نہیں کرسکتی، بلاول بھٹو کی ٹویٹ کے ذریعے جو باتیں سامنے آئی ہیں انتہائی خوفناک ہیں، پاکستان میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد ترمیم پر ردعمل دیں گے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت بل لے کر آئی ہے کسی نے خدوخال نہیں دیکھا، کبھی بھی این ایف سی ایوارڈ کو نہیں چھیڑا گیا، صوبوں کی مشاورت کے بغیر کچھ نہ کیا جائے۔ ادھر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہم 27 ویں ترمیم کو رد کرتے ہیں ،کوئی بھی آئینی ترمیم فارم 47 والی اسمبلی نہیں کرسکتی، بلاول بھٹو کی ٹویٹ کے ذریعے جو باتیں سامنے آئی ہیں انتہائی خوفناک ہیں، پاکستان میں آئین کے بنیادی ڈھانچے کو تبدیل کیا جارہا ہے۔
سلمان اکرم راجہ بولے کہ آزاد عدلیہ کے تصور کو ختم کیا جارہا ہے، ہم اس ترمیم کی مخالفت کریں گے۔ مصطفیٰ نواز کھوکھر نے آئینی ترمیم پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ بلاول کے بیان سے ہمیں آئینی ترمیم کا پتا چلا، آئینی بینچز بنائے تو یہ بیانیہ رکھا کہ انصاف کی فراہمی بہتر ہوگی، انہوں نے سوال کیا کہ یہ عدلیہ کے ساتھ کیا کھلواڑ کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔