غزہ اپنی جدید تاریخ کے سب سے المناک دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں ایک ترک خاتون، جنہوں نے 24 سال اس محصور خطے میں گزارے، وہاں کی زندگی، جنگوں، ناکہ بندیوں اور ایمان کی پختگی کو یاد کرتی ہیں۔

کیفسَر یلماز جارادہ 1999 میں شادی کے بعد غزہ منتقل ہوئیں اور 2 دہائیوں سے زائد عرصے تک وہیں مقیم رہنے کے بعد اپنے آپ کو فلسطینی ہی سمجھتی ہیں۔

’میں نے غزہ کے عوام کے ساتھ جنگیں، ناکہ بندیاں اور مشکلات جھیلیں، خود کو ان ہی میں سے ایک سمجھتی ہوں، مجھے لگتا ہے میں بھی غزہ کی ہوں۔‘

یہ بھی پڑھیں: دو سالہ جنگ کے بعد ملبہ اٹھانے کا عمل شروع، 5 لاکھ سے زیادہ فلسطینی غزہ لوٹ آئے

وہ 2023 کی گرمیوں میں علاج کے لیے ترکی آئیں، اور کچھ ہی دن بعد اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ چھڑ گئی۔

کیفسَر یلماز جارادہ نے بتایا کہ 2005 تک اسرائیلی آبادکار فلسطینی زمینوں پر قابض تھے اور غزہ میں ’نظر نہ آنے والے علاقوں‘ میں پرتعیش زندگی گزارتے تھے۔

ان کے پاس وسیع فارم، اسکول اور کارخانے تھے، جب کہ مقامی آبادی انتفاضہ اور شدید معاشی دباؤ میں زندگی گزار رہی تھی۔

ان کے مطابق غزہ کے عوام نے مزاحمت کرتے ہوئے قبضہ کرنے والوں کو اپنی زمین پر سکون سے رہنے نہیں دیا، اور آخرکار ایک بھی آبادکار وہاں باقی نہ رہا۔

’غزہ میں زندگی رک جاتی ہے، مگر تعلیم نہیں‘

کیفسَر یلماز جارادہ کے مطابق تعلیم غزہ میں ہمیشہ اولین ترجیح رہی۔ ’’جنگ ہو یا امن، تعلیم کبھی نہیں رکتی،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ اسکول کے بعد بچے عام طور پر مساجد کا رخ کرتے، جو سماجی مراکز کا کردار ادا کرتی تھیں۔

انہوں نے بتایا کہ غزہ سے باہر نکلنا بے حد مشکل تھا، طلبا اور مریضوں کو مہینوں پہلے نام درج کروانے اور اجازت کی فہرستوں کے انتظار میں رہنا پڑتا۔

غزہ کی زندگی بجلی اور پانی کی قلت سے جڑی ہوئی تھی، جہاں بجلی عام طور پر 4 سے 8 گھنٹے کے لیے آتی تھی اور کبھی کبھار بالکل نہیں۔

مزید پڑھیں: چین کا غزہ میں ’مستقل اور جامع‘ جنگ بندی پر زور، فلسطینیوں کے اپنے علاقے پر حق حکمرانی کی حمایت

’اگر رات کو بجلی آتی تو ہم اسی وقت کپڑے دھوتے، استری کرتے اور کھانا بناتے, 8 گھنٹے بجلی ملنا خوشی کی بات ہوتی تھی۔‘

پانی بھی 2 یا 3 دن بعد آتا، تو لوگ ٹینک بھر کر ذخیرہ کرتے۔ ان مشکلات کے باوجود طلبا نے اپنی یونیورسٹی کی تعلیم مکمل کی۔

’غزہ کے عوام کی شکرگزاری اور ثابت قدمی نے ہمیں قیمتی سبق دیا۔‘

’غزہ کے لوگ کبھی نہیں کہتے، ہم ہار گئے‘

کیفسَر کے مطابق، غزہ کی مشکلات نے وہاں کے لوگوں کو ٹوٹنے کے بجائے مضبوط بنایا۔

’زندگی سخت تھی، مگر اس نے انہیں طاقتور بنا دیا، ان کا ایمان پختہ ہے، وہ جلد سنبھل جاتے ہیں اور کبھی نہیں کہتے کہ ہم ختم ہو گئے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ الاقصیٰ مسجد پر حملوں نے غزہ کے عوام کو متحد کر دیا۔

مزید پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی جارحیت جاری، الشفا اسپتال کے ڈائریکٹر کے خاندان سمیت 91 فلسطینی شہید

’انہوں نے قربانیاں دیں، کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ جنگ کیوں شروع ہوئی، بلکہ سب نے اپنی طاقت پہچانی۔‘

جارادہ کہتی ہیں کہ 2 سال گزرنے کے باوجود غزہ شکست خوردہ نہیں۔ ’اسرائیل نہ اپنے تمام قیدی واپس لا سکا، نہ غزہ پر مکمل قبضہ، اس لیے غزہ ابھی بھی سر بلند ہے۔‘

’لوگ کنویں یا سمندری پانی پر زندہ رہے‘

8 اکتوبر 2023 کے بعد کے حالات یاد کرتے ہوئے جارادہ کہتی ہیں کہ بمباری اور ناکہ بندی کے دوران لوگ کنویں یا سمندری پانی پر زندہ رہے، حتیٰ کہ جنگلی پودے کھائے۔

’میرے بچے 2 ہفتے صرف پانی پر گزارہ کرتے رہے، ایک وقت ایسا بھی آیا جب ہم نے مرغیوں کا دانہ پیس کر روٹی بنائی۔‘

ان کے مطابق اسپتالوں پر حملوں سے صحت کا نظام تباہ ہو گیا، زخمیوں کو علاج نہ مل سکا، اور ہزاروں بے گھر خاندان خیموں یا ملبے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے۔

’غزہ کے لوگ دوبارہ سنبھلنا جانتے ہیں‘

کیفسَر یلماز جارادہ کا کہنا ہے کہ غزہ کے معاشرے میں ’خود کو ازسرنو تعمیر کرنے کی فطری صلاحیت‘ موجود ہے۔

’جیسے ہی جنگ بندی ہوتی ہے، سب سے پہلے مساجد کی مرمت کی جاتی ہے، لوگ دوبارہ جمع ہوتے ہیں، گھر بنتے ہیں، گلیاں صاف کی جاتی ہیں اور زندگی پھر سے شروع ہو جاتی ہے۔‘

مزید پڑھیں: غزہ پر اسرائیلی حملے، ایک دن میں 57 فلسطینی جاں بحق

وہ کہتی ہیں کہ غزہ کے لوگ فیاض، شاکر اور باہمت ہیں، وہاں گزارے گئے 24 سالوں نے انہیں صبر، شکر اور یکجہتی سکھائی۔

اپنے بچوں کو غزہ میں پالنا ان کے لیے اعزاز تھا۔

’دنیا نے غزہ کے عوام کی ہمت اور وقار دیکھا ہے، دعا ہے کہ ایک دن ہم سب مل کر آزاد القدس میں نماز ادا کریں۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

القدس بمباری ترک خاتون تعلیم جنگ بندی شکست خوردہ غزہ ناکہ بندی.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: القدس ترک خاتون تعلیم ناکہ بندی کیفس ر یلماز جارادہ غزہ کے عوام ناکہ بندی کہتی ہیں کے مطابق جاتی ہے ہیں کہ کے لوگ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔

آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔

چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔

رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔

سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔

چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔

شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار