Jasarat News:
2025-12-10@18:25:38 GMT

مائیکرو پلاسٹکس ہماری روزمرہ زندگی میں خاموش خطرہ بن گئے

اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT

مائیکرو پلاسٹکس ہماری روزمرہ زندگی میں خاموش خطرہ بن گئے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ماہرین کے مطابق ہم بغیر محسوس کیے مسلسل مائیکرو پلاسٹکس کا استعمال بھی کر رہے ہیں اور انہیں نگل بھی رہے ہیں۔ یہ باریک ذرات کھانے، پانی اور سانس کے ذریعے ہمارے جسم میں داخل ہوتے رہتے ہیں جبکہ عام استعمال کی متعدد مصنوعات میں بھی ان چھوٹے ذرات کی موجودگی پائی گئی ہے۔

مائیکرو پلاسٹک اصل میں وہ پلاسٹک ہے جو وقت کے ساتھ ٹوٹ کر اتنے چھوٹے ٹکڑوں میں بدل جاتا ہے کہ وہ آنکھ سے دکھائی نہیں دیتے۔ کراچی یونیورسٹی کے پروگرام باخبر سویرا میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر وقار احمد نے بتایا کہ ہماری روزمرہ استعمال کی بے شمار چیزوں میں یہ پلاسٹک شامل ہوتا ہے لیکن ہمیں اس کی معلومات نہیں دی جاتیں۔ خواتین کے استعمال میں آنے والے فیس واش میں استعمال ہونے والے ذرات بھی دراصل مائیکرو پلاسٹکس ہوتے ہیں۔

ڈاکٹر وقار احمد کے مطابق ہر ہفتے انسان تقریباً پانچ گرام تک پلاسٹک اپنے جسم میں لے جاتا ہے جو ایک کریڈٹ کارڈ کے وزن کے برابر ہے۔ جو پانی ہم پیتے ہیں، جو غذا ہم کھاتے ہیں اور جو ہوا ہم سانس کے ذریعے اپنے جسم میں لے جاتے ہیں، ان سب میں مائیکرو پلاسٹکس شامل ہیں۔ مختلف سائنسی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مارکیٹ میں دستیاب زیادہ تر بوتل بند پانی میں بھی پلاسٹک کے باریک ذرات موجود ہیں جبکہ ان میں پوشیدہ کیمیکلز بھی شامل ہوتے ہیں جو امراض قلب، ہارمون عدم توازن اور حتیٰ کہ کینسر کا بھی سبب بن سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پلاسٹک ہی نہیں بلکہ ڈسپوزیبل مصنوعات جیسے ماسک، سرنجز، دستانے اور سرجیکل آلات بھی صحت کو متاثر کرتے ہیں کیونکہ یہ ایک بار استعمال کے بعد پلاسٹک کچرے میں اضافہ کرتے ہیں اور بالآخر ماحول میں ہی واپس شامل ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے سائنس دان اب یہ تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ باریک ذرات انسانی خون اور پھیپھڑوں تک کیسے پہنچتے ہیں اور ان سے بچاؤ کے مؤثر طریقے کیا ہو سکتے ہیں۔

.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مائیکرو پلاسٹکس مائیکرو پلاسٹک ہیں اور

پڑھیں:

قومی اہمیت کے اہم منصوبوں کی شفافیت کیساتھ بر وقت تکمیل ہماری ترجیح ہے؛ وزیراعظم

سٹی 42 : وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی اہمیت کے اہم منصوبوں کی شفافیت کے ساتھ بر وقت تکمیل ہماری ترجیح ہے ۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کے بروقت تکمیل کے حوالے سے لائحہ عمل پر اجلاس آج وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوا۔

وزیراعظم نے ترقیاتی منصوبوں کے مختلف مراحل میں اصلاحات کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں اصلاحات کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اسٹیک ہولڈرز کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی صدارت خود کروں گا۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے اصلاحات میں معاونت پر وزیراعظم نے شراکت داروں، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کا شکریہ ادا کیا ۔

ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد

اجلاس کو عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے انسانی وسائل کو منصوبوں کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی کے مقاصد اور امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کی بھی ضرورت ہے ۔

اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ بروقت پروکیورمنٹ نہ ہونا ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی بنیادی وجہ ہے۔ای-پروکیورمنٹ اور پراجیکٹ ریڈی نیس کی سہولیات کی فراہمی سے پروکیورمنٹ کو تیز رفتار بنایا جا سکتا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں منظوری کے کئی مراحل شامل ہوتے ہیں جن کو سہل بنانے کی ضرورت ہے۔  

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان

اجلاس میں اصلاحات کے حوالے سے چار ورکنگ گروپس بنانے کی تجویز دی گئی۔ پہلا ورکنگ گروپ ترقیاتی منصوبوں کے منظوری کے مراحل اور تیاری کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا ۔ دوسرا ورکنگ گروپ پروکیورمنٹ کو جدید اور شفاف خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا۔ تیسرا ورکنگ گروپ منصوبوں کے لئے زمین کے حصول اور ری-سیٹیلمینٹ کے معاملات میں اصلاحات لانے کے حوالے سے ہو گا جبکہ چوتھا ورکنگ گروپ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے  انسانی وسائل اور اسٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا۔ 

پیپلز پارٹی کے رہنما حسن مرتضیٰ کے والد انتقال کر گئے

اجلاس میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ, وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ, وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام شزا فاطمہ ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس خان لغاری ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹرز سمیت متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران  موجود تھے۔

سندھ ہائی کورٹ؛ موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری

متعلقہ مضامین

  • سیاست نہیں ہماری بات کریں، بالکونی میں کھڑی خاتون اور بلاول بھٹو کے درمیان دلچسپ مکالمہ
  • کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی کے حق میں نہیں، گورنر راج ہماری خواہش نہیں، بلاول بھٹو
  • اقوامِ متحدہ خاموش کیوں؟ کشمیریوں کا عالمی انسانی حقوق کے دن پر سوال
  • اڈیالہ کا قیدی ملک کیلئے خطرہ اور الطاف حسین پارٹ 2بن چکا ہے، عظمی بخاری
  • پشاور میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کا سیاسی پاور شو، گرما گرم تقاریر
  • قومی اہمیت کے اہم منصوبوں کی شفافیت کیساتھ بر وقت تکمیل ہماری ترجیح ہے؛ وزیراعظم
  • نوجوانوں کو فیصلہ سازی میں شامل کیے بغیر تبدیلی ممکن نہیں، صہیب عمار صدیقی
  • پی ٹی آئی پنجاب کی پارلیمانی پارٹی عمران خان کے ٹوئٹس پر خاموش کیوں؟
  • فضائی آلودگی شریانوں کو بلاک کرسکتی ہے
  • مٹیاری وگردنواح میں منشیات کا استعمال بڑھ گیا، پولیس خاموش