وقت آگیا ہے عوامی طاقت سے طبقاتی نظام کو بدلا جائے، ضیاالدین انصاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
امیر جماعت لاہور کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی پاکستان نا صرف ملک گیر دیانتدار قیادت کی حامل واحد حقیقی جمہوری پارٹی کا درجہ رکھتی ہے بلکہ جماعت اسلامی منصفانہ نظام، ایک نصاب اور ایک زبان پر مبنی پاکستان کی جدوجہد کر رہی ہے، اجتماع عام ملک میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی لاہور ضیاالدین انصاری نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام کی طاقت سے موجودہ طبقاتی نظام کو بدلا جائے۔ لاہور میں ہونیوالے اجتماع کی تیاریوں کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مینار پاکستان میں ہونیوالا اجتماع عام سیاسی و معاشی بے یقینی کی صورتحال میں تبدیلی کی نوید ثابت ہوگا، جبکہ دیانتدار قیادت ہی ملک و قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی پاکستان نا صرف ملک گیر دیانتدار قیادت کی حامل واحد حقیقی جمہوری پارٹی کا درجہ رکھتی ہے بلکہ جماعت اسلامی منصفانہ نظام، ایک نصاب اور ایک زبان پر مبنی پاکستان کی جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماع عام ملک میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا، جبکہ 21،22،23 نومبر کو ہونیوالے اجتماع میں خیبر سے کراچی تک کے لاکھوں مردو خواتین اور نوجوان شریک ہوں گے۔ اجلاس میں جبران بن سلمان نے ضلع وسطی لاہور کی تیاریوں کے حوالے سے آگاہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کہ جماعت نے کہا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔