دہلی میں سخت آلودگی سے صورتحال تشویشناک، اے کیو آئی 400 سے تجاوز
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے مطابق 4 نومبر تک موسم میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں ہے۔ ہوا کی رفتار 10 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود رہیگی، جس سے آلودگی کی سطح میں کمی نہیں آئیگی۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی میں آلودگی کی سطح مسلسل بڑھ رہی ہے اور صورتحال تشویشناک ہے۔ دارالحکومت کے بیشتر علاقے کئی دنوں سے ریڈ زون میں ہیں۔ ہوا میں کہرا اور دھول اب صاف دکھائی دے رہی ہے۔ حکومت کی مسلسل کوششوں کے باوجود صورتحال میں کوئی خاص بہتری نظر نہیں آرہی ہے۔ جمعرات کی صبح 6 بجے لئے گئے اعداد و شمار کے مطابق وویک وہار نے ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 412 اور آنند وہار نے 404 کا AQI ریکارڈ کیا، دونوں ہی "شدید" زمرے میں ہیں۔ دہلی کا مجموعی AQI 347 تھا، جو "انتہائی خراب" زمرے میں آتا ہے۔ تقریباً 32 علاقوں میں بھی 300 اور 400 کے درمیان AQI ریکارڈ کیا گیا۔
بڑھتی ہوئی آلودگی لوگوں کی صحت کو سخت خراب کر رہی ہے۔
ہوا کے معیار کا مسلسل بگڑنا دہلی کے لوگوں کی صحت پر براہ راست اثر انداز ہو رہا ہے۔ گلے میں خراش، سانس لینے میں دشواری اور آنکھوں میں جلن عام ہوگئی ہے۔ بہت سے لوگ اب احتیاط کے طور پر ماسک پہن رہے ہیں اور غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں، مرد و خواتین، بزرگوں اور بچوں ہر کسی کو اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ انڈیا میٹرولوجیکل ڈپارٹمنٹ کے مطابق 4 نومبر تک موسم میں کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں ہے۔ ہوا کی رفتار 10 کلومیٹر فی گھنٹہ تک محدود رہے گی، جس سے آلودگی کی سطح میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دہلی-این سی آر میں ٹھنڈی اور دھیمی ہوائیں ہوا کو مزید زہریلا بنا رہی ہیں۔ فی الحال دارالحکومت میں صاف ہوا اگلے ہفتے سے پہلے نظر آنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ آج بھی صبح کے وقت ہلکی دھند چھائی رہی اور درجہ حرارت میں کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعرات یعنی کل زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ اور کم سے کم 18 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کا امکان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔