دہلی میں "اے کیو آئی" 490 سے تجاوز، ملک بھر میں سردی کی شدت میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
محکمہ موسمیات کے مطابق بلند علاقوں میں آج سے ہلکی بارش اور برفباری ہو سکتی ہے، خاص طور پر 3500 میٹر سے اوپر کے علاقوں میں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے بڑے حصے میں سردی نے اب پوری طرح اپنا اثر دکھانا شروع کر دیا ہے۔ دار الحکومت دہلی سے لے کر شمالی بھارت، مشرقی بھارت اور پہاڑی علاقوں تک سردی اور کہرے نے لوگوں کی روز مرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ صبح اور شام کے وقت سردی کی شدت بڑھ گئی ہے، جب کہ کئی علاقوں میں سرد لہر جیسی صورتحال بنتی جا رہی ہے۔ اسی دوران محکمہ موسمیات نے کئی ریاستوں کے لئے گھنے کہرے اور پہاڑی علاقوں میں برفباری کے حوالے سے الرٹ جاری کیا ہے۔ مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کے مطابق اتوار کی صبح 6 بجے، دہلی کے کئی علاقوں میں اے کیو آئی 490 سے اوپر ریکارڈ کی گئی تھی۔ پورا دارالحکومت "شدید پلس" کے زمرے میں رہتا ہے۔ نوئیڈا اور دیگر این سی آر علاقوں میں بھی ہوا کا معیار انتہائی خراب ہے۔
آلودگی کے ساتھ ساتھ گھنی دھند نے بھی لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ بہت سے علاقوں میں مرئیت 50 میٹر سے بھی کم ہوگئی، جس سے سڑک، ریل اور ہوائی ٹریفک متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق ہماچل پردیش کے بلند علاقوں میں آج موسم کافی سخت رہنے کا امکان ہے۔ منالی، شملہ جیسے علاقوں میں بھاری برفباری ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر منالی میں درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک گرنے کا خدشہ ہے اور کم از کم درجہ حرارت منفی چھ ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے۔ گلمرگ میں بھی آج درجہ حرارت دو ڈگری سیلسیس تک گرنے کی امید ہے۔ شملہ، منالی، گلمرگ اور سرینگر جیسے سیاحتی مقامات پر آسمان پر بادل چھائے رہیں گے، جس سے سردی کا احساس مزید بڑھ سکتا ہے۔
اتراکھنڈ کے پہاڑی اضلاع میں بھی سردی کا اثر صاف نظر آ رہا ہے۔ نینی تال، مسوری اور چمولی میں درجہ حرارت مسلسل نیچے جا رہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق بلند علاقوں میں ہلکی بارش اور برفباری ہو سکتی ہے، خاص طور پر 3500 میٹر سے اوپر کے علاقوں میں۔ میدانی علاقوں میں کہرے نے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے شمالی اور مشرقی بھارت کے کئی اضلاع میں گھنے کہر کا الرٹ جاری کیا ہے۔ بہار کے پٹنہ، سارن، بکسراور ارریہ میں صبح کے وقت حدِ نگاہ بہت کم رہنے کا خدشہ ہے۔ اتر پردیش کے لکھنؤ، کانپور، ایودھیا اور بارابنکی میں بھی گھنا کہر چھا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے جے پور اور کوٹا اور مدھیہ پردیش کے بھوپال اور اندور میں بھی کہرے کے حوالے سے وارننگ دی گئی ہے۔
اترپردیش میں شدید سردی نے ابھی پوری طرح دستک نہیں دی ہے، لیکن رات کے وقت خاصی ٹھنڈ محسوس کی جا رہی ہے۔ دن میں موسم معمول پر رہنے اور دھوپ نکلنے سے کچھ راحت ملنے کی امید ہے۔ آج کئی اضلاع میں گھنے کہر کا الرٹ جاری کیا گیا ہے، خاص طور پر مغربی اترپردیش کے ترائی علاقوں اور مشرقی اتر پردیش کے کچھ شہروں میں۔ تاہم دن کے وقت موسم صاف رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ راجستھان میں ہلکے مغربی ڈشٹربنسکے اثر سے موسم میں تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ دسمبر کی شدید سردی کے درمیان اب درجہ حرارت میں ہلکا اضافہ درج کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات علاقوں میں کر دیا ہے کے مطابق پردیش کے میں بھی کے وقت
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔