محکمہ موسمیات نے بارشوں کے دو نئے اسپیلز کی پیشگوئی کر دی
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
پاکستان میں جاری خشک سردی کی لہر کے خاتمے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ محکمہ موسمیات نے ملک کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کے دو اسپیلز کی پیشگوئی جاری کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج سے پندرہ دسمبر تک مری، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں برفباری کا امکان ہے۔ اس دوران بالائی علاقوں میں موسم سرد اور مرطوب رہنے کی توقع ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ انیس دسمبر کو مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ ملک میں داخل ہوگا، جس کے باعث مختلف علاقوں میں بارش اور پہاڑی علاقوں میں ہلکی برفباری ہو سکتی ہے۔ جڑواں شہروں میں اس دوران صرف بوندا باندی متوقع ہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ موسمیات عرفان ورک کے مطابق بالائی خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے بعض علاقوں میں بارش اور ہلکی برفباری کا امکان ہے۔ دن کے درجہ حرارت میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے اور بعض علاقوں میں درجہ حرارت پانچ ڈگری سینٹی گریڈ تک گرنے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات نے مزید بتایا کہ اکیس دسمبر تک سردی میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ دسمبر کے آخر اور جنوری کے آغاز میں اسلام آباد میں درجہ حرارت صفر ڈگری سینٹی گریڈ تک گر سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات علاقوں میں
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔