سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے گستاخوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے‘ اہلسنت والجماعت
اشاعت کی تاریخ: 15th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) اہلسنّت والجماعت کے زیراہتمام خلیفہ بلافصل، سسر رسولِ اکرمؐ، امامُ الصحابہؓ، اولُ المسلمین سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے یومِ وفات (22 جمادی الثانی) کے موقع پر کراچی سمیت ملک بھر میں عقیدت و احترام کے ساتھ تقریبات، سیمینارز، مجالس اور مدحِ صحابہؓکے مطالباتی جلوس نکالے گئے۔ ان جلوسوں کا مقصد سیدنا صدیق اکبرؓکے فضائل و مناقب کو عام کرنا اور صحابہ کرامؓ کی ناموس کے تحفظ کا دوٹوک اعلان کرنا تھا۔ کراچی میں اہلسنّت والجماعت کراچی ڈویژن کی جانب سے مرکزی مدحِ صحابہؓ جلوس لسبیلہ چوک سے شروع ہو کر معاویہ سینٹر المعروف تبت سینٹر پر اختتام پذیر ہوا۔ جلوس کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جلوس کا پہلا حصہ معاویہ سینٹر پر موجود تھا جبکہ آخری حصہ مزارِ قائد کے اطراف سے بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔ شہرِ قائد کے تمام 24 ٹاؤنز سے بڑے بڑے جلوس لسبیلہ پہنچے جہاں وہ متحد ہو کر اپنی آخری منزل کی جانب روانہ ہوئے۔شرکاء میں مرکزی صدر اہلسنّت والجماعت پاکستان علامہ غازی اورنگزیب فاروقی، صدر کراچی علامہ رب نواز حنفی‘ قائدکشمیرمولاناتصدق حسین، سیکرٹری جنرل علامہ تاج محمد حنفی، مولانا محی الدین شاہ الحسینی، مولانا عبدالرافع، ترجمان کراچی مولانا عمر معاویہ، مولانا شکیل احمد، امیر فضل خالق، قاری عبدالوہاب، مولانا حمید احمد، کامران فاروقی، مفتی سیف الرحمن عباسی، قاری عبدالشکور اشرف میمن اور دیگر علما و قائدین شامل تھے۔ علامہ غازی اورنگزیب فاروقی نے کہا کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ وہ عظیم ہستی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن و حدیث میں خصوصی مقام عطا فرمایا۔ علامہ رب نواز حنفی نے اپنے خطاب میں کہا کہ خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے گستاخوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے بصورتِ دیگر عوام اہلسنّت کا اضطراب ناقابلِ کنٹرول ہو سکتا ہے۔ سیکرٹری جنرل اہلسنّت والجماعت کراچی ڈویژن علامہ تاج محمد حنفی نے واضح اور دوٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مدحِ صحابہؓ جلوس کے شرکااور قائدین نے حکومتِ وقت سے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ خلیفہ بلافصل سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے گستاخوں کو فی الفور گرفتار کیا جائے۔ 22 جمادی الثانی کو سرکاری سطح پر یومِ صدیق اکبرؓمنایا جائے اور عام تعطیل کا اعلان کیا جائے۔ پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا اورسوشل میڈیا پر سیدنا صدیق اکبرؓ کی اسلام کے لیے بے مثال خدمات کو بھرپور انداز میں اجاگر کیا جائے۔ صحابہ کرامؓ کی ناموس کے تحفظ کیلیے مؤثر قانون سازی اور عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اہلسن ت والجماعت کیا جائے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔