data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251213-08-15

 

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ نے دستاویزات میں ردوبدل اور انسانی اسمگلنگ کے مقدمے میں گرفتار ملزم صارم برنی کی ساتویں درخواستِ ضمانت بھی مسترد کر دی۔ سماعت کے دوران وکیل صفائی راج علی واحد کنور نے مؤقف اختیار کیا کہ ضمانت پر رہائی ملزم کا قانونی حق ہے جبکہ صارم برنی انسانی حقوق کے شعبے میں نمایاں خدمات رکھتے ہیں اور انہیں بلاوجہ انتقامی کارروائی کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ وکیل صفائی نے کہا کہ ڈیڑھ برس سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے مگر اب تک ٹرائل کا آغاز نہیں ہوسکا، لہٰذا ملزم کو استغاثہ کے رحم و کرم پر جیل میں سڑنے کے لیے نہیں چھوڑا جاسکتا۔ سرکاری وکیل نے درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور انہیں امریکی قونصل خانے کی شکایت پر گرفتار کیا گیا تھا۔ سرکاری وکیل کے مطابق اگر ملزم کو ضمانت مل گئی تو وہ گواہوں اور شہادتوں پر اثرانداز ہوسکتا ہے، اس لیے درخواست منظور نہیں کی جانی چاہیے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ سناتے ہوئے درخواست ضمانت مسترد کردی۔ ملزم صارم برنی کی جانب سے اس سے قبل دائر کی گئی متعدد درخواستیں سیشن عدالت، وفاقی اینٹی کرپشن عدالت اور سندھ ہائیکورٹ میں مسترد ہوچکی ہیں۔ صارم برنی کو ایف آئی اے نے جون 2024 میں وطن واپسی پر کراچی ایئرپورٹ سے گرفتار کیا تھا۔

اسٹاف رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی

---فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔ 

کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔

سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔

سارا انعام قتل کیس: سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کیخلاف اپیل میں نوٹس جاری

جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔

عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔ 

سارہ انعام قتل کیس، مرکزی ملزم شاہنواز امیر اور والدہ پر فرد جرم عائد

اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور