فلم دھُرندھر کیخلاف کراچی کی عدالت میں درخواست دائر، مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکن محمد عامر نے بھارتی فلم دھُرندھر کیخلاف مقامی عدالت میں آئینی درخواست دائر کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پیپلزپارٹی کے کارکن نے بھارتی فلم کے ٹریلر میں بینظیر بھٹو شہید کی تصاویر اور پیپلز پارٹی کے پرچم و جلسوں کے مناظر کے غیر مجاز استعمال اور جماعت کو دہشت گردوں کی حمایت کرنے کے طور پر دکھائے جانے کیخلاف ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی کی عدالت میں آئینی درخواست دائر کردی ہے۔
درخواست گزار نے فلم کے ڈائریکٹر، پروڈیوسرز، اداکاروں اور متعلقہ عملے کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی استدعا کی ہے۔ درخواست میں فلم کے ڈائریکٹر آدتیہ دھر، پروڈیوسر لوکیش دھر، جیوتی کشور دیش پانڈے، اداکار رنویر سنگھ، سنجے دت، اکشے کھنہ، آر مادھون، ارجن رامپال، سارہ ارجن، راکیش بینی، سنیماٹوگرافر وکاش نولکھا، ایڈیٹر شیو کمار وی پانیکر اور دیگر نامعلوم عملے کو بطور ملزمان نامزد کیا گیا ہے۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ انہوں نے فلم دھُرندھر کا آفیشل ٹریلر سوشل میڈیا پر دیکھا جس میں پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی تصاویر، پارٹی پرچم اور ریلیوں کے مناظر بلا اجازت شامل کیئے گئے۔
ٹریلر میں پیپلز پارٹی کو دہشتگردوں کی حمایت کرنے والی جماعت کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جو جھوٹ، بد نیتی اور بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈا ہے۔
فلم کی تشہیری مہم میں کراچی، خصوصاً لیاری کودہشت گرد اور جنگ زدہ علاقہ قرار دیا گیا ہے جو کہ شہر اور اس کے باسیوں کیخلاف انتہائی اشتعال انگیز، بے بنیاد اور نقصان دہ تاثر ہے، جس سے پاکستان کی ساکھ کو عالمی سطح پر نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
درخواست گزار نے کہا کہ فلم کا ٹریلر عوام میں پیپلز پارٹی، اس کی قیادت اور کارکنوں کیخلاف نفرت، حقارت اور اشتعال پھیلانے کا باعث بن رہا ہے، جو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 499، 500، 502، 504، 505، 153-A اور 109 کے تحت قابلِ دست اندازیِ پولیس جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق انہوں نے پولیس اسٹیشن درخشاں کے ایس ایچ او کو تحریری شکایت جمع کرائی مگر پولیس نے نہ تو مقدمہ درج کیا اور نہ ہی کوئی قانونی کارروائی کی، جس کے باعث وہ عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوئے۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پولیس کو فوری طور پر ایف آئی آر درج کرنے، ایس ایس پی ساؤتھ کو شفاف اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی نگرانی کا حکم دیا جائے جبکہ فلم سے متعلق تمام ذمہ داروں کو تفتیش میں نامزد کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: درخواست گزار پیپلز پارٹی
پڑھیں:
بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
بلوچستان میں حالیہ دہشتگرد حملوں اور ایک جج کے قتل کے تناظر میں کالعدم بی ایل اے اور داعش کے پی کے درمیان مبینہ روابط کے حوالے سے نئے دعوے سامنے آئے ہیں۔
عوام کی جانب سے بی ایل اے کو اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں شہریوں اور عوامی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے والے حملوں میں بی ایل اے ملوث رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاکستان کی کامیاب کارروائیاں، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے مشترکہ پناہ گاہ ڈھونڈنے پر مجبور
اس کے نتیجے میں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال متاثر ہو رہی ہے۔
عوامی انفراسٹرکچر پر حملوں سے شہری متاثرواضح رہے کہ عوامی انفراسٹرکچر، خصوصاً پلوں اور سڑکوں کو نشانہ بنانے سے آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں، ہنگامی امدادی خدمات اور روزمرہ زندگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔
اس کا سب سے زیادہ نقصان بلوچستان کے عام شہریوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے، جنہیں بنیادی سہولیات تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
جج کے قتل کو عدلیہ پر حملہ قرار دیا گیاعوامی حلقوں میں بلوچستان میں مستونگ کے علاقے میں جج کے قتل کو عدلیہ اور نظامِ انصاف پر براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے جو کہ کالعدم بی ایل اے نے کیا جبکہ اس کی ذمہ داری داعش کے پی نے قبول کی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سینیئر صحافی اس صورتحال کو دونوں تنظیموں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
اقوامِ متحدہ سے کارروائی کا مطالبہواضح رہے کہ کالعدم داعش کے پی پہلے ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیم قرار دی جا چکی ہے، جبکہ کالعدم بی ایل اے اب تک اقوامِ متحدہ کی دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
مزید پڑھیں:ماہرنگ لانگو کے والد کی قبر پر کالعدم بی ایل اے کا پرچم لہرانے کی ویڈیو وائرل، اصل چہرہ بے نقاب
اسی بنیاد پر مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کالعدم بی ایل اے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے کر اسے فوری دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔
ادھر خیبر پختونخوا سے سینیئر صحافی حسن خان نے ایکس پر لکھا ہے کہ ’بلوچستان کے ضلع مستونگ کے قریب سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کے قتل کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم آئی ایس کے پی (داعش خراسان) نے قبول کر لی ہے۔
ISKP has claimed responsibility for the targeted killing of Sessions Judge Abdul Hakeem Kakar and his gunman while they were on their way to Mastung early on Thursday. Another judge was injured in the attack, according to officials.
This ISKP claim raises questions about a…
— Hassan khan (@hasankhyber) July 23, 2026
حملے میں ایک اور جج بھی زخمی ہوئے، جبکہ واقعے کے بعد سیکیورٹی اور تحقیقاتی اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔
سرکاری حکام کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ جمعرات کی صبح مستونگ جا رہے تھے کہ نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا۔ فائرنگ کے نتیجے میں جج اور ان کا گن مین جاں بحق ہو گئے، جبکہ ایک اور جج زخمی ہوئے۔
آئی ایس کے پی کے دعوے کے بعد نئے سوالاتحملے کے چند گھنٹوں بعد آئی ایس کے پی نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی، جس کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے بی ایل اے اور آئی ایس کے پی کے درمیان مبینہ روابط پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:لاپتا افراد کی آڑ میں کئی نوجوان دہشتگردی میں ملوث، بی ایل اے کا مکرو چہرہ بے نقاب
کچھ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا طریقۂ کار ماضی میں بلوچستان میں ہونے والے بعض حملوں سے مماثلت رکھتا ہے، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس حملے میں کسی دوسری تنظیم کا کردار تھا یا دونوں گروہوں کے درمیان عملی تعاون موجود ہے۔
عدلیہ کو نشانہ بنانے کے محرکات کی تحقیقات جاریبعض مبصرین کے مطابق یہ حملہ عدلیہ کو خوفزدہ کرنے یا دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب حالیہ دنوں میں بلوچ یکجہتی کونسل کی مرکزی رکن ماہ رنگ لانگو کے خلاف عدالتی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
تحقیقاتی ادارے مختلف پہلوؤں سے واقعے کا جائزہ لے رہے ہیں تاکہ حملہ آوروں کی شناخت اور ممکنہ سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
ایک روز قبل مسافر بس پر حملہیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایک روز قبل بلوچستان میں مسافر بس پر حملے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ سرکاری حکام نے اس حملے کا الزام بی ایل اے پر عائد کیا تھا۔
حکام کے مطابق مسلح افراد نے بس کو رکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور کے گاڑی بھگانے پر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 5 مسافر جان کی بازی ہار گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ بی ایل اے پابندی خراسان داعش فہرست کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی ماہ رنگ لانگو مطالبہ