اسلام آباد ہائیکورٹ: وقاص احمد کی مقدمات خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ: وقاص احمد کی مقدمات خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ WhatsAppFacebookTwitter 0 10 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول اور شہری وقاص احمد و سہیل علیم کے درمیان مالی لین دین کے تنازعے نے سنسنی خیز قانونی موڑ اختیار کر لیا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے وقاص احمد کی اپنے اور اہلیہ کے خلاف درج دو مقدمات خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
وقاص احمد کی اہلیہ اور تین بچیوں کو اسلام آباد پولیس لاہور سے اٹھا کر لائی تھی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر ڈی آئی جی اسلام آباد پولیس جواد طارق عدالت میں پیش ہوئے ۔
ڈی آئی جی پولیس نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے لاہور میں ریڈ کی متعلقہ تھانے میں کوئی انٹری نہیں کی گئی،
لاہور میں ہونے والے وقوعے کا مقدمہ پولیس آفیشلز کے خلاف وہاں درج ہو چکا،
سرکاری وکیل نے کہا کہ مشرف رسول نے وقاص اور سہیل کو گاڑیاں خریدنے کیلئے 80 لاکھ روپے دیے تھے،
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اگر رقم دی گئی تو پولیس گاڑیاں کِس طرح لاہور سے ریکور کر کے لے آئی؟
اسلام آباد پولیس لاہور گئی، سرچ وارنٹ نہیں لیا اور گاڑیاں اٹھا کر لے آئی،
سرکاری وکیل نے بتایا کہ اُس نے دی گئی رقم سے گاڑیاں خرید لی تھیں، تو رقم گاڑیوں میں تبدیل ہو گئی،
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ گاڑیاں لی بھی ہیں تو وہ مشرف رسول کے نام پر تو نہیں ہیں، لاہور سے ایک عورت کو تین بچیوں سمیت اغواء کیا گیا، گاڑیاں بھی لے آئے، گاڑیوں کو کیس پراپرٹی ڈکلیئر کر کے کہا گیا کہ وارنٹ کی ضرورت ہی نہیں تھی،
جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ وہ گاڑیوں کی جگہ گھوڑے خرید لیتا تو آپ گھوڑے لے آتے؟
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ گھر سے ایک کروڑ 15 لاکھ روپے اور سونا بھی چُرایا گیا، یہ ڈکیتی ہے،
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ مشرف رسول نے رقم تو پانچ گاڑیاں خریدنے کیلئے دی تھی نا؟ تین گاڑیاں لے آئے، باقی دو گاڑیوں کی جگہ گھر کا فرنیچر کیوں نہیں اٹھا کر لائے؟
جسٹس محسن کیانی نے پولیس افسران سے مکالمہ کیا کہ باقی دو گاڑیاں نہیں تھیں تو گھر کے برتن اٹھا کر لے آتے،
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اسلام آباد پولیس کے ریڈ کرنے والے آفیشلز کا تو لاہور کے درج مقدمے میں ذکر ہی نہیں،
جسٹس محسن کیانی نے کہا کہ اگر اسلام آباد پولیس نہیں تھی تو پھر پولیس کی وردیاں پہن کر کوئی ڈاکو آیا تھا، پھر الزام پولیس پر نہیں ڈاکوؤں پر ہے اُن ڈاکوؤں کو پکڑیں، 17 ستمبر کو ایک عورت کو تین بچیوں سمیت اغواء کیا گیا، گھر سے ایک کروڑ 15 لاکھ روپے، سونا اور گاڑیاں اٹھا لائے اور 20 کو اُنہی پر پولیس مقابلہ ڈال دیا،
لطیف کھوسہ نے کہا کہ جو چیزیں گھر سے اٹھا کر لائے 20 ستمبر کے پولیس مقابلے میں وہی سب برآمدگی ڈال دی،
جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اس سے پہلے جتنے افسر آئے جھوٹ بول کر چلے گئے،
جسٹس محسن کیانی نے ڈی آئی جی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس افسر نے عدالت سے سچ بولا اور درست رپورٹ دی، عدالت نے کیس میں دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسلسل غیر حاضری پر علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری مسلسل غیر حاضری پر علی امین گنڈاپور کے وارنٹ گرفتاری جاری پاکستان میں کاروباری اعتماد 7 سال کی بلند ترین سطح پر آگیا ٹیرف میرا پسندیدہ لفظ ہے اس سے ملک میں اربوں ڈالر آ رہے ہیں، صدر ٹرمپ اراضی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی روکنے کی استدعا مسترد، سی ڈی اے کا ڈویلپ پلاٹس دینے کا فیصلہ عرفان صدیقی کے بیٹے عمران خاور صدیقی ایڈوائزر وزیراعلیٰ پنجاب مقرر خاکروب کی آسامیوں کے اشتہار میں ’’صرف مسیحی‘‘ لکھنے پر پابندیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ اسلام ا باد ہائیکورٹ اسلام ا باد پولیس وقاص احمد کی فیصلہ محفوظ مشرف رسول نے کہا کہ اٹھا کر
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس