کراچی میں ہزاروں کیمرے، گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چھننا کم نہ ہوئیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
کراچی: شہر بھر میں سیف سٹی کیمروں اور ہزاروں کی تعداد میں دیگر کیمروں کی تنصیب کے باوجود شہریوں کی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چھننے اور چوری ہونے کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے۔
رواں برس ماہ نومبر تک شہر میں 1955 گاڑیاں جبکہ 41 ہزار 324 موٹر سائیکلیں چھینی اور چوری کی جا چکی ہیں۔ مجموعی طور پر 6 ہزار 357 گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چھینی جبکہ 36 ہزار 922 گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری کی گئیں۔
شہر میں گھروں کے باہر کھڑی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ مختلف مقامات سے گاڑیاں چوری کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے آئی ہیں۔
لیاقت آباد میں گھر کے باہر سے سوزوکی چوری کر لی گئی۔ واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا گیا کہ شال پہنا شخص سوزوکی کو دھکا لگا کر آگے لے کر جاتا ہے اور وہاں سے گاڑی اسٹاٹ کرکے فرار ہو جاتا ہے۔
دو روز قبل بلوچ کالونی میں گھر کے باہر کار چوری کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی جبکہ اسی روز ایک اور کار چوری کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی۔
چند روز قبل پی آئی بی کالونی سے گھر کے باہر موٹر سائیکل چوری کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی تھی۔ ملزم آسانی سے لاک کھول کر موٹر سائیکل لے کر فرار ہوگیا تھا۔
چند روز قبل سعود آباد کے علاقے میں ملزمان گھر کے باہر کھڑی دو گاڑیوں کے ٹائر چوری کر کے فرار ہو گئے تھے۔
شہر میں سیف سٹی اور ای چالان کیمروں کے علاوہ دیگر کیمروں کے جال کے باوجود وارداتیں جاری ہیں۔
واضح رہے کہ ایک روز قبل ہی آئی جی سندھ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ 2019 سے اب تک شہر میں 40 ہزار سے زائد جدید کیمرے لگنے سے شہر میں سکیورٹی نیٹ ورک نمایاں طور پر مضبوط ہوا ہے اور 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں کی سی سی ٹی وی فوٹیج گھر کے باہر چوری کی
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔