لاکھوں روپے کے کیمروں کے باوجود کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی نہ آ سکی
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی میں سیف سٹی اور ہزاروں دیگر کیمروں کی تنصیب کے باوجود گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی چھینا جھپٹی اور چوری کی وارداتوں میں کمی نہ آسکی۔
رواں برس نومبر تک شہر میں 1955 گاڑیاں اور 41 ہزار 324 موٹر سائیکلیں چھینی یا چوری ہو چکی ہیں، جبکہ مجموعی طور پر 6 ہزار سے زائد گاڑیاں و موٹر سائیکلیں چھینی اور 36 ہزار سے زائد چوری کی جا چکی ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں گھروں کے باہر سے گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں چوری ہونے کی سی سی ٹی وی فوٹیجز سامنے آ چکی ہیں، جن میں لیاقت آباد، بلوچ کالونی، پی آئی بی کالونی اور سعود آباد شامل ہیں، جہاں ملزمان باآسانی وارداتیں کر کے فرار ہو گئے۔
یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آئی جی سندھ کے مطابق 2019 سے اب تک شہر میں 40 ہزار سے زائد جدید کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں اور اربوں روپے کے اسمارٹ آئی ٹی منصوبوں کے ذریعے سیکیورٹی نیٹ ورک مضبوط بنایا گیا ہے، تاہم اس کے باوجود اسٹریٹ کرائم شہریوں کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔