اے آئی کیمروں کا کمال: کراچی سے چھینی اور چوری شدہ 150 گاڑیاں کیسے ٹریس ہوئیں
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سندھ حکومت کے نئے منصوبے ایس 4 کے جدید اے آئی کیمروں کی مدد سے کراچی سے چھینی یا چوری کی گئی 150 سے زائد گاڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں۔
پولیس کے مطابق ایک خاتون سمیت 200 ملزمان کو چوری اور چھینا جھپٹی کے الزامات میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔
یہ جدید اے آئی کیمرے چہروں اور نمبر پلیٹس کی شناخت کرتے ہیں اور مختلف شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر نصب کیے گئے ہیں۔ چوری شدہ گاڑیاں یا مطلوبہ ملزمان جیسے ہی ان راستوں سے گزرتے ہیں، کیمرے خود بخود ان کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کراچی میں ایس فور کیمروں کے ڈیٹا بینک میں تمام چوری شدہ گاڑیوں اور ملزمان کا ریکارڈ شامل ہے، جس کے بعد سندھ پولیس ہائی وے پیٹرول عملہ فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑیاں برآمد اور ملزمان گرفتار کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
بالی وڈ اداکارہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر ممبئی میں چوری کی بڑی واردات سامنے آئی ہے جس میں تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور قیمتی گھڑیاں چوری کرلی گئیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعہ ممبئی کے علاقے جوہو میں پیش آیا، جہاں روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر سے قیمتی سامان اس وقت غائب پایا گیا جب اہل خانہ نے لاکر چیک کیا۔ لاکر کھولنے پر زیورات اور گھڑیاں موجود نہ ہونے کا انکشاف ہوا، جس کے بعد فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی گئی۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ تقریباً 25 لاکھ روپے مالیت کے زیورات اور گھڑیاں چوری ہوئی ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق اس کیس میں ایک خاتون کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا تعلق روینہ ٹنڈن کے خاندان سے ہی بتایا جا رہا ہے۔ ملزمہ کی شناخت 47 سالہ راشی چھابریا کے نام سے ہوئی ہے۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ مذکورہ خاتون 2020 سے اداکارہ کے گھر آ جا رہی تھی اور اس دوران اس نے گھر والوں کا اعتماد حاصل کر لیا تھا۔ وہ روینہ ٹنڈن کی والدہ کی مدد اور دیکھ بھال بھی کرتی رہی۔
پولیس نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمہ کے قبضے سے کچھ قیمتی گھڑیاں برآمد کر لی گئی ہیں، تاہم باقی زیورات کی بازیابی کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں تاکہ مکمل ریکوری ممکن بنائی جا سکے۔