پارلیمنٹ کا 9 ماہ بعد مشترکہ اجلاس آج، اہم قوانین کی منظوری دی جائے گی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
صدر مملکت کی جانب سے نو ماہ بعد طلب کیے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آج اہم قوانین کی منظوری دی جائے گی۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج گیارہ بجے ہوگا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا، قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 منظور صدر مملکت کی جانب سے نو ماہ بعد طلب کیے گئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آج اہم قوانین کی منظوری دی جائے گی۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس آج گیارہ بجے ہوگا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا 15 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا، قومی کمیشن برائے حقوق اقلیتاں بل 2025 منظور کیا جائے گا ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025 منظورکیا جائے گا۔ اجلاس میں حیاتیاتی و زہریلے ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کنونشن برائے حیاتیاتی اور زہریلے ہتھیار عملدرآمد بل 2024 منظور کیا جائے گا، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023 منظور کیا جائے گا۔ ایجنڈے کے مطابق نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد کے قیام کا بل 2023 منظور کیا جائے گا، اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023 منظور کیا جائے گا، گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 منظور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں صحافیوں اور میڈیا ورکز کے تحفظ کا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق کمیشن کا بل، پاکستان اینیمل کونسل کا بل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 9 ماہ بعد ہو گا جس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی خطاب کریں گے، موجودہ حالات میں اس اجلاس کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔کیا جائے گا ، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ ملازمین ترمیمی بل 2025 منظورکیا جائے گا۔ اجلاس میں حیاتیاتی و زہریلے ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کنونشن برائے حیاتیاتی اور زہریلے ہتھیار عملدرآمد بل 2024 منظور کیا جائے گا، پاکستان انسٹیٹیوٹ آف مینجمنٹ، سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی بل 2023 منظور کیا جائے گا۔ ایجنڈے کے مطابق نیشنل یونیورسٹی برائے سیکیورٹی سائنسز اسلام آباد کے قیام کا بل 2023 منظور کیا جائے گا، اخوت انسٹیٹیوٹ قصور بل 2023 منظور کیا جائے گا، گھرکی انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 منظور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں صحافیوں اور میڈیا ورکز کے تحفظ کا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، اس کے علاوہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اقلیتوں کے حقوق کمیشن کا بل، پاکستان اینیمل کونسل کا بل بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 9 ماہ بعد ہو گا جس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن بھی خطاب کریں گے، موجودہ حالات میں اس اجلاس کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بل 2023 منظور کیا جائے گا اینڈ ٹیکنالوجی بل انسٹیٹیوٹ آف کے مطابق ماہ بعد
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔