اپوزیشن کا 3 سالہ ابراہیم کی تصویر اٹھا کر سندھ اسمبلی میں احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 2nd, December 2025 GMT
اپوزیشن نے 3 سالہ ابراہیم کی تصویر اٹھا کر سندھ اسمبلی میں احتجاج کیا۔بچے کی موت پر اپوزیشن لیڈر کو بات کرنے کی اجازت نہ ملنے پر ارکان نے ایوان میں شور شرابہ کیا، ایم کیو ایم ارکان احتجاجاً اسمبلی سے واک آؤٹ کر گئے، ریحان بندوکڑا نے توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرایا، رکن اسمبلی آبدیدہ ہو گئے، انہوں نے کہا کہ چند لمحات میں زندگی ختم ہو گئی، ہم سب ذمہ دار ہیں یہاں ڈمپر پورے پورے خاندان ختم کر دیتے ہیں۔ایم کیو ایم کے افتخار عالم سندھ حکومت پر بھڑک اٹھے، انہوں نے کہا کہ کیا کراچی کے بچے اسی طرح گٹروں میں گرتے رہیں گے؟ حکومت اس طرح کے واقعات کا تدارک کب کرے گی؟ کھلے مین ہول موت کو دعوت کے مترادف ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 14 گھنٹے بعد لاش ملی، واقعہ پر سندھ حکومت کا مؤقف آنا چاہئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔