کے پی اسمبلی میں صوبہ ہزارہ کیلئے درکار آئینی عمل شروع کرنے سے متعلق مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
قرارداد کا مقصد ہزارہ ڈویژن کو علیحدہ صوبے کا درجہ دینے کے لیے آئینی و انتظامی تقاضے مکمل کرنا ہے۔ قرارداد حکومتی رکن نذیر عباسی نے ایوان میں پیش کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن احمد کنڈی اور جمعیت علمائے اسلام کے رکن سجاد اللہ نے قرار داد کی حمایت کی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبہ ہزارہ کے قیام کے لیے درکار آئینی عمل فوری طور پر شروع کرنے سے متعلق مشترکہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔ قرارداد کا مقصد ہزارہ ڈویژن کو علیحدہ صوبے کا درجہ دینے کے لیے آئینی و انتظامی تقاضے مکمل کرنا ہے۔ قرارداد حکومتی رکن نذیر عباسی نے ایوان میں پیش کی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن احمد کنڈی اور جمعیت علمائے اسلام کے رکن سجاد اللہ نے قرار داد کی حمایت کی۔ قرارداد کی منظوری کے دوران مختلف ارکان نے صوبہ ہزارہ کے تاریخی، انتظامی اور عوامی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہوئے اسے عوامی مطالبہ قرار دیا۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ صوبائی حکومت نئے صوبے کے قیام کے لیے تمام ضروری مشاورت، انتظامی اقدامات اور قانونی تقاضے بروقت اور مؤثر انداز میں مکمل کرے۔ قرارداد میں حکومت کو ہدایت کی گئی ہے کہ نئے صوبے کے ڈھانچے، حدود اور انتظامی لائحہ عمل کی تشکیل کے لیے جامع سفارشات مرتب کرکے متعلقہ آئینی و قانونی فورمز کو پیش کی جائیں۔ ایوان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آئینی عمل کی تکمیل میں کسی بھی قسم کی تاخیر سے گریز کیا جائے اور اس معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
کراچی:صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی بلاول ہاؤس کراچی میں ملاقات ہوئی جس میں بلوچستان میں امن و امان، ترقیاتی منصوبوں اور صوبے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
صدر ِمملکت نے بلوچستان میں ترقی کے عمل کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور صوبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔
انہوں نے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت تیز کرنے کی ہدایت کی۔
صدر مملکت نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی، امن و امان کی صورتحال کو بہتر کرنے، عوامی فلاح اور صوبے میں معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تمام متعلقہ ادارے مربوط انداز میں کام کریں۔
ملاقات میں صوبائی وزیرِ آبپاشی صادق عُمرانی، وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی ظہور بلیدی، وزیرِ صحت میر بخت کاکڑ، وزیرِ لائیو اسٹاک سردار فیصل جمالی، وزیرِ صنعت و تجارت کویار ڈومکی، وزیرِ محنت غلام رسول عُمرانی اور پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر نائب صدر میر علی حسن زہری شریک تھے۔