سینیٹ نے گرفتار ، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش سے متعلق بل منظور کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینیٹ نے گرفتار ، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش سے متعلق بل اور فیٹل ایکسیڈنٹس (ترمیمی) بل 2024 سمیت تین بلوں کی متفقہ منظوری دے دی ۔ متعدد پرائیویٹ بل قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے گئے ۔
سینیٹ کا اجلاس چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیرصدارت ہوا ۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے گرفتار ، نظربند اور زیرحراست افراد سے تفتیش سے متعلق ترمیمی بل سینیٹ میں پیش کیا جسے متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا ۔ فاروق نائیک نے بتایا کہ بل کی رو سے گرفتار شخص کو گرفتاری کی تحریری وجوہات بتائی جائیں گی ۔ اس کو وکلا کی مدد حاصل ہوگی ، اس کو فیملی سے ملاقات کی اجازت اور دوائیاں مل سکیں گی ۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے پولیس افسران کو جرمانہ ہوگا ۔
ہم عوام کے ووٹ سے واپس آئیں گے،یہ ترامیم واپس کریں گے اور ایوان کی عزت دوبارہ بحال کریں گے،بیرسٹر گوہر
سما ٹی وی کے مطابق سینیٹر شہادت اعوان کی جانب سے پیش کیا گیا فیٹل ایکسیڈنٹس (ترمیمی) بل بھی متفقہ طور پر منظور۔حادثات سے متعلق کیسز کا فیصلہ 6 ماہ میں کیا جائے گا ۔ سینیٹر شہادت اعوان کا پیش کردہ لمیٹڈلائیبلیٹی پارٹنرشپ (ترمیمی) بل بھی سینیٹ نے منظور کرلیا ۔ پاکستان سائیکالوجیکل کونسل بل، انسداد الیکٹرانک کرائمز ترمیمی بل ، الیکٹرانک نیکوٹین ڈلیوری سسٹمز ریگولیشن بل ، یونیورسٹیوں میں مستحق افراد کیلئے خصوصی نشستیں مختص کرنے سمیت متعددبل متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیئے گئے ۔ پاکستان اینیمل سائنس کونسل بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو بھجوانے کی تحریک منظور ۔ طلحہ محمود کی بیروزگاری پر قابو پانے کی قراردادمتعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردی گئی ۔
ایف آئی اے نے ایئرپورٹس پر پاکستانیوں کو آف لوڈ کرنے سے متعلق خبریں بے بنیاد اور پروپیگنڈا قرار دے دیں
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز