سینیٹ اجلاس کا 51 نکاتی ایجنڈا جاری، پیکا ایکٹ سمیت اہم ترمیمی بل شامل
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسلام آباد:
سینیٹ اجلاس کا 51 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا، جس میں مجموعی طور پر 21 قوانین کے بلز شامل کیے گئے ہیں۔
اجلاس کے دوران 10 قوانین پیش کیے جائیں گے جب کہ 9 کی منظوری لی جائے گی۔ اس کے علاوہ اراکین کی جانب سے 2 قوانین واپس لیے جائیں گے۔ ایجنڈے میں پیکا ایکٹ ترمیمی بل بھی شامل ہے، جو اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
پی ایم ڈی سی ترمیمی بل 2025 اور اسلام آباد میٹرو بس سروس بل 2025 بھی سینیٹ اجلاس کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن ترمیمی بل 2025 اور پاکستان براڈ کاسٹ کارپوریشن ترمیمی بل بھی اجلاس میں پیش کیے جائیں گے۔
اس کے علاوہ الیکٹرانک نیکوٹین ریگولیشن ترمیمی بل 2024 اور لیگل پریکٹیشنر اینڈ بار کونسل ترمیمی بل بھی ایجنڈے میں شامل ہیں۔
گرفتار، زیر حراست اور زیر تفتیش قیدیوں کے حقوق سے متعلق بل کی سینیٹ سے منظوری بھی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ علاوہ ازیں تعزیراتِ پاکستان سیکشن 323، 330 اور 331 میں ترمیمی بل کی منظوری بھی شامل کی گئی ہے۔
ضابطہ فوجداری کی شیڈول ٹو میں 297 اے نئی شق شامل کرنے سے متعلق سی آر پی سی ترمیمی بل کی منظوری بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ مینٹل ہیلتھ ترمیمی بل اور پاکستان نرسنگ کونسل ترمیمی بل 2025 کی منظوری بھی سینیٹ اجلاس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سینیٹ اجلاس ایجنڈے میں منظوری بھی کی منظوری
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔