ہندوتوا ایجنڈے کے تحت بھارت میں مسلمانوں کا استحصال جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251201-01-5
نئی دہلی (آن لائن)آر ایس ایس کے ہندوتوا ایجنڈے کے تحت انتہاپسند بھارت میں مسلمانوں کا منظم استحصال جاری ہے اورغاصب مودی ظلم و استبداد جاری رکھ کر مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی شناخت مٹانے کے درپے ہے ۔بھارت میں مسلمان کیخلاف تعصب، نفرت اور انتہاپسندانہ کارروائیاں بے نقاب ہوچکی ہیں۔ ”پریس ٹی وی” کے مطابق مہاراشٹرا میں3 مسلم طلبہ کو کلاس روم میں نماز پڑھنے پر مورتی کے سامنے جھکنے اور بیٹھک لگانے پر مجبور کیا گیا، تاج محل کے قریب 64 سالہ مسلم ٹیکسی ڈرائیور کو 2 نوجوانوں نے ”جے شری رام” کا نعرہ لگانے پر مجبور کیا، بھارت میں دائیں بازو کے گروہ مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز تقریریں اور تشدد کی دھمکیاں دیتے ہیں مگر حکام اور میڈیا خاموش رہتا ہے، بریلی شہر میں ایک مسلمان کی دو منزلہ مارکیٹ کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا گیا، بھارت میں خطرناک روایت بن گئی ہے کہ مسلمانوں کے حق میں بولنے والوں کی جائیدادیں گرا دی جاتی ہیں۔ پریس ٹی وی کے مطابق بھارت میں احتجاج کرنے والے مسلمانوں کو بغیر قانونی عمل کے گرفتار کیا جا رہا ہے، سوشل میڈیا پر دائیں بازو کے گروہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے ہیں، حکومتی پالیسیوں نے فرقہ وارانہ کشیدگی اور اسلاموفوبیا میں اضافہ کیا ہے، بھارت میں نفرت، انتہاپسندی، مذہبی تفریق اور اقلیت دشمنی سفاک مودی کی معتصبانہ سوچ کا عکاس ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارت میں
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔