ایمنسٹی انٹرنیشنل کی مزدور رپورٹ پر حبیب جنیدی کا ردعمل
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے جاری کردہ حالیہ رپورٹ کو چشم کشا قرار دیتے ہوئے پیپلز لیبر بیورو سندھ کے صدر حبیب الدین جنیدی نے کہا کہ مذکورہ رپورٹ نے ہمارے اس الزام کو سچ ثابت کردیا ہے کہ مختلف صنعتوں کے مالکان کرپشن مافیا کی ملی بھگت سے محنت کشوں بشمول خواتین ورکرز کے حقوق کی پامالی اور ان کے بدترین استحصال کے ذمہ دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ نے ہمارے اس دعویٰ کو بھی درست ثابت کیا ہے کہ مزدوروں کو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم ماہانہ اجرت بھی ادا نہیں کی جارہی اور انہیں یونین سازی کے قانونی حق سے تقریباً محروم رکھا گیا ہے۔حبیب الدین جنیدی نے کہا کہ پیپلز پارٹی مزدوروں کے حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گی اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام فیکٹریوں، اداروں اور صنعتوں میں مزدور قوانین پر مکمل عملدرآمد کیا جائے اور قانونی طور پر مقرر کردہ کم از کم ماہانہ اجرت جو کہ اس وقت 40ہزار ہے اس کی ادائیگی کو یقینی بنائے۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مصنوعی ذہانت آئندہ برسوں میں کتنی بڑی بے روزگاری کا سبب بن سکتی ہے؟
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے تیزی سے پھیلتے استعمال نے عالمی روزگار کے منظرنامے پر سنگین خدشات کھڑے کر دیے ہیں۔
نیشنل فاؤنڈیشن فار ایجوکیشن ریسرچ (این ایف ای آر) کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ دس برسوں میں برطانیہ میں تقریباً 30 لاکھ افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کی اس پیش قدمی سے نمٹنے کے لیے ملکی سطح پر ہنرمندی اور تربیت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات ناگزیر ہو چکی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ ایسے شعبے جہاں روزمرہ کام زیادہ تر ترتیب وار، دفتری یا مشینی نوعیت کے ہوتے ہیں، آٹومیشن کی زد میں سب سے پہلے آئیں گے۔ ان میں ایڈمنسٹریٹو اسٹاف، سیکریٹریل اسسٹنٹس، کسٹمر سروس کے نمائندے اور مشین آپریٹرز نمایاں طور پر شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان شعبوں میں انسانی کردار تیزی سے اسکینرز، سافٹ ویئر اور خودکار نظاموں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں نوکریاں ختم ہونے کا خدشہ ہے۔
این ایف ای آر کا کہنا ہے کہ یہ خطرہ صرف ان افراد تک محدود نہیں جو پہلے سے ملازمت کر رہے ہیں، بلکہ ان نوجوانوں کے لیے بھی انتہائی تشویشناک ہے جو ہنر حاصل کیے بغیر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتے ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا کہ ایسے نوجوان مستقبل کے خودکار نظاموں سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ طبقہ بے روزگاری کے شدید دباؤ کا سامنا کرے گا۔
رپورٹ نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کے بدلتے چیلنجز کے مطابق قومی سطح پر اسکل اپ گریڈیشن، جدید تربیت اور فنی تعلیم کے مؤثر پروگرام متعارف کرائیں، تاکہ آنے والے دور میں مزدور طبقہ اپنی جگہ برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھ سکے