اندھا کیس حل، سفاک بیٹے نے فجر کی نماز کیلیے جانے والے باپ کو فائرنگ کر کے قتل کیا، ہوشربا انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
خیبرپختونخوا ضلع صوابی کی پولیس نے اندھے قتل کا معمہ حل کرتے ہوئے باپ کو مارنے والے سفاک بیٹے کو گرفتار کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق صوابی کے علاقے زیدہ پولیس نے اندھے قتل کیس کو ٹریس کرکے ملزم کو آلہ قتل پستول سمیت گرفتارکر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم مقتول کا اپنا سگا بیٹا نکلا جس ۔نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی تھی۔
ضلعی پولیس آفیسر کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق گزشتہ روز آیان اللہ نے تھانہ زیدہ میں ایف آئی آر درج کراتے ہوئے بتایا کہ ان کے 52 سالہ والد عباد اللہ کو جمعے کی صبح کو نماز فجر پڑھنے کے لئے مسجد جاتے ہوئے نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کر دیا۔
اس درد ناک واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر صوابی ضیاء الدین احمد نے اصل حقائق سامنے لانے اور ملزم/ملزمان کو ٹریس کرکے ان کی فوری گرفتاری کے لیے خصوصی ٹاسک دیا۔
ڈی ایس پی سرکل صوابی اعجاز آبازئی کی قیادت میں ایس ایچ او تھانہ زیدہ فاروق خان اور تفتیشی ٹیم نے جدید سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر تفتیش کرتے ہوئے چند گھنٹوں میں اصل ملزم تک رسائی حاصل کرکے مقتول کے سگے بیٹے عیان اللہ کو گرفتارکر لیا۔
تحقیقات کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ قتل کوئی بیرونی کارروائی نہیں بلکہ مقتول کا سگا بیٹا ہی قاتل نکلا۔ ملزم نے دوران انٹروگیشن اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ والد کے ساتھ معمولی گھریلو جھگڑوں اور ناراضی کے باعث اس نے اپنے والد پر فائرنگ کر کے قتل کیا۔مزید تفتیش جاری ہے،
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
زیادتی کے الزام میں عمر قید پانے والے ملزم کی سزا کالعدم قرار
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں 14 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کے مقدمے میں عمر قید کی سزا کے خلاف ملزم خدا بخش کی اپیل کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کو کالعدم قرار دے دیا اور ملزم کی فوری رہائی کا حکم جاری کردیا۔ وکیلِ صفائی زاہد ناریجو نے عدالت کو آگاہ کیا کہ متاثرہ بچی کے طبی معائنے میں کسی قسم کے تشدد یا زبردستی کے نشانات موجود نہیں تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متاثرہ بچی کے کپڑے دو دن بعد دھلے ہوئے حالت میں برآمد کیے گئے، جس کے نتیجے میں ان سے حاصل کیے گئے ڈی این اے کے نمونے قانونی اعتبار سے مشکوک ہیں۔ وکیل صفائی نے نشاندہی کی کہ ملزم کے خلاف پیش کیے گئے شواہد اور گواہان کے بیانات میں تضاد موجود ہے جو مقدمے کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے۔ پراسیکیوشن کے مطابق ملزم خدا بخش نے 2024 میں 14 سالہ بچی کو جھاڑیوں میں لے جا کر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا جسکا مقدمہ سجاول تھانے میں درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے استغاثہ اور صفائی کے دلائل سننے کے بعد قرار دیا کہ مقدمے میں شواہد کی ساکھ اور گواہیوں میں تضادات کے پیشِ نظر شک کا فائدہ ملزم کو دیا جانا چاہیے۔ عدالت نے اس بنیاد پر ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی عمر قید کی سزا کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم خدا بخش کی رہائی کا حکم جاری کیا۔