پاکستان میں محمد علی اور ٹائسن جیسا چیمپئن ضرور آئے گا، باکسنگ کا مستقبل روشن ہے: عامر خان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
لاہور میں جاری انٹرنیشنل باکسنگ چیمپئن شپ کے دوران پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں باکسنگ کا مستقبل انتہائی روشن ہے اور وہ دن دور نہیں جب یہاں سے بھی محمد علی اور مائیک ٹائسن جیسا عالمی چیمپئن سامنے آئے گا۔
جناح اسپورٹس کمپلیکس لاہور میں ہونے والی چیمپئن شپ میں برطانوی باکسر جیمز میٹکالف نے ڈبلیو بی اے ایشیا گولڈ مڈل ویٹ ٹائٹل جیت لیا۔ انہوں نے ڈومینیکن ریپبلک کے جولیو ڈی جیسس کو تیسرے راؤنڈ میں ناک آؤٹ کیا۔
دوسری جانب ارجنٹائن کے البرٹو پلمیٹا نے فلپائنی باکسر جوفر منٹانو کو چھٹے راؤنڈ میں ناک آؤٹ کرکے ڈبلیو بی اے ایشیا ساؤتھ ویلٹر ویٹ ٹائٹل اپنے نام کیا۔
میڈیا سے گفتگو میں عامر خان نے کہا کہ انہیں لاہور آکر بےحد خوشی ہوئی۔یہاں 15 ممالک کے باکسرز شریک ہوئے، فینز لاجواب تھے اور سیکیورٹی بھی بہترین تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس چیمپئن شپ سے پاکستان میں کھیلوں کے فروغ میں مدد ملے گی اور ایسے ایونٹس سے ملک کی ٹورازم انڈسٹری بھی مضبوط ہوگی۔
سابق ورلڈ چیمپئن نے پاکستانی باکسرز کی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔پاکستان کے باکسرز میں وہ تمام صلاحیتیں ہیں جو عالمی سطح کا چیمپئن بننے کے لیے درکار ہوتی ہیں۔
عامر خان نے پاکستان آرمی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ فورس نے ایونٹ کو کامیاب بنانے اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو معیاری سیکیورٹی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہاں ہونے والے مقابلے واقعی شاندار تھے، پاکستان آرمی نے سب کی حفاظت کو یقینی بنایا، جس کی وجہ سے یہ ایونٹ بہترین ماحول میں مکمل ہوا۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان میں
پڑھیں:
لاہور ہائیکورٹ؛ پیکا قانون کے تحت مجرم کی 3 سال قید کی سزا معطل، ضمانت منظور
لاہور ہائیکورٹ نے پیکا قانون کے تحت سزا پانے والے مجرم سلمان مرتضیٰ کی 3 سال قید کی سزا معطل کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض اس کی ضمانت منظور کرلی۔
جسٹس شہرام سرور چوہدری اور جسٹس سردار علی اکبر ڈوگر پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کی، جس میں مجرم کی جانب سے میاں داؤد ایڈووکیٹ پیش ہوئے۔
میاں داؤد ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ ٹرائل کورٹ نے سلمان مرتضیٰ کو اپنی کزن کی قابلِ اعتراض تصاویر چوری کرنے اور شیئر کرنے کے الزام میں 3 سال قید کی سزا سنائی تھی، حالانکہ مدعی اور متاثرہ لڑکی نے عدالت میں تسلیم کیا کہ سلمان مرتضیٰ نے کوئی مواد شیئر نہیں کیا۔
وکیلِ صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ استغاثہ ٹرائل کے دوران ایک بھی الزام ثابت نہ کر سکا، اس کے باوجود ٹرائل کورٹ نے سزا سنا دی۔ ان کے مطابق مجرم کو اس کے رشتہ داروں نے والدہ کی جائیداد ہتھیانے کے لیے جھوٹے مقدمے میں ملوث کیا۔
وکیل کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے مطابق اگر سزا 3 سال یا اس سے کم ہو تو مجرم سزا معطلی اور ضمانت کا حق رکھتا ہے۔
عدالت نے ریکارڈ کا جائزہ لینے اور تفصیلی دلائل سننے کے بعد مجرم کی 3 سال قید کی سزا معطل کرتے ہوئے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں پر اس کی رہائی کا حکم دے دیا۔