ٹنڈوجام ٹول پلازہ انتظامیہ سپریم کورٹ کا حکم ماننے سے انکاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت) سپریم کورٹ کے فیصلے کو ٹنڈوجام ٹول پلازہ انتظامیہ نے ہوا میں اُڑا دیا ٹول ٹیکس انتظامیہ نے مقامی شہریوں سے ٹول وصولی دوبارہ شروع کر دی جب سے ٹول پلازہ بنا ہے مقامی لوگ کی زندگی انھوں نے اجیرن بنا کر رکھ دی ہے عوام ٹول پلازہ انتظامیہ کے خلاف سڑک پر نکل آئی ٹول پلازہ کے سامنے تین گھنٹے طویل دھرنا دیا اور حیدرآبادمیرپورخاص روڈ کو بلاک کر دیا تفصیلات کے مطابق ٹنڈو جام کے قریب ڈیٹھا ٹول پلازہ انتظامیہ نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے اُس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جس میں کہا گیا تھا کہ مقامی افراد جو پانچ کلو میٹر کے اندر رہتے ہیں ان سے ٹول ٹیکس نہیں لیا جائے گا اور ٹنڈوجام کے رہائشیوں سے پندرہ روپے ٹول ٹیکس وصول کیا جائے ٹول انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ہوا میں اُڑاتے ہوئے ٹول پلازہ کے قریب رہنے والے لوگوں سے بھی ٹول کی وصولی دوبارہ شروع کر دی جس کے خلاف وصولی شروع کر دی گئی سینکڑوں مشتعل شہریوں نے ٹول گیٹ کے سامنے دھرنا دے کر سڑک بلاک کر دیدھرنے کی قیادت کرنے والے کامریڈ نذیر زئنور، عزیز زئنور، عطا محمد ڈیٹھو، شریف ابڑو، بشیر ڈیٹھو اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز ٹول کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا سپریم کورٹ کے حکم کی توہین کرنے والے ٹول انتظامیہ کے خلاف فوری کارروائی کی جائے اور یہ غیرقانونی ٹول وصولی بند کرائی جائیمظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹول انتظامیہ مختلف اوقات میں مقامی شہریوں کو ٹول گیٹ پر روک کر اُن کی تذلیل بھی کرتی رہی ہے ۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انتظامیہ نے سپریم کورٹ
پڑھیں:
سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: 3 طلاق سمیت کوئی بھی طلاق 90 دن مکمل ہونے تک مؤثر نہیں
سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ تین طلاق یا کسی بھی طلاق کا اطلاق تب تک مؤثر نہیں ہوگا جب تک کہ 90 دن کی قانونی مدت پوری نہ ہو جائے۔
عدالت کے فیصلے میں جسٹس محمد شفیع صدیقی نے لکھا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کی دفعہ 7 کے تحت طلاق کے لیے 90 روزہ انتظار لازمی ہے۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر خاوند نے بیوی کو بلا شرط طلاق کا حق دیا ہے تو بیوی کو بھی طلاق واپس لینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
یہ فیصلہ محمد حسن سلطان کی سول پٹیشن کے سلسلے میں آیا، جس میں سندھ ہائی کورٹ کے 7 اکتوبر 2024 کے فیصلے کو برقرار رکھا گیا۔
واقعے کی تفصیل کے مطابق فریقین کی شادی 2016 میں ہوئی تھی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت بیوی کو طلاق کا حق تفویض کیا گیا تھا۔ بیوی نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7(1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 10 اگست 2023 کو 90 دن مکمل ہونے سے پہلے طلاق واپس لے لی، جس کے بعد یونین کونسل/ثالثی کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی تھی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق، قانون کے تحت بیوی کو دیا گیا حقِ طلاق “بلا شرط” اور مکمل ہے، مگر 90 دن کی قانونی مدت مکمل ہونے سے پہلے طلاق کا اطلاق مؤثر نہیں ہوتا۔