WE News:
2025-11-29@10:48:54 GMT

پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے پولیس کی جانب سے غیر قانونی حراست، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف بڑا فیصلہ جاری کیا ہے۔ 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز رویہ، ذاتی وقار کی پامالی کسی بھی صورت جائز نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ بعض اوقات پولیس تشدد کا سہارا لے کر استثنیٰ کے مفروضے کے تحت ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن یہ عمل ماورائے عدالت قتل کا سبب بن سکتا ہے اور اسے روکنے کے لیے پولیس فورس پر مؤثر اور خصوصی نگرانی ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، ماورائے عدالت حراستی قتل ’فساد فی الارض‘ قرار

سپریم کورٹ نے فیصلہ میں کہا کہ زندگی کا حق سب سے اعلیٰ انسانی حق ہے اور آئین ریاست پر فرض عائد کرتا ہے کہ ہر شہری کے حقِ زندگی، آزادی اور وقار کا تحفظ کرے۔

عدالت نے مزید کہا کہ غیر قانونی حراست، گرفتاری، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف آئینی ضمانتیں اور قانونی اصول موجود ہیں اور پولیس ہر شخص کی جان، آزادی اور عزت کی حفاظت کی پابند ہے۔

عدالت نے زریاب خان نامی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنے اور تشدد کرنے والے 3 پولیس کانسٹیبلز کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے سزائیں برقرار رکھی ہیں۔

مزید پڑھیں: شیخ حسینہ کو اپنی ہی قائم کردہ عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے کہا کہ ان اہلکاروں کا عمل اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے اور نوکری سے برخاست کرنے کے محکمانہ فیصلے ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 10 اور آرٹیکل 14 کی وضاحت کی گئی، جس کے مطابق گرفتار شخص کو گرفتاری کی وجوہات بتائے بغیر حراست میں نہیں رکھا جا سکتا اور اسے 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے، اور کسی کی عزت نفس یا گھر کی پرائیویسی کی پامالی نہیں کی جا سکتی۔

یہ فیصلہ ڈیرہ غازی خان کے 3 پولیس کانسٹیبلز کی اپیلوں پر آیا، جو زریاب خان کو غیرقانونی حراست میں رکھنے اور قتل کرنے کے الزامات میں شامل تھے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی، غیر قانونی گرفتاریاں اور ماورائے عدالت ہلاکتیں معمول بن گئیں

نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کیخلاف پہلے پنجاب سروس ٹربیونل سے رجوع کیا گیا تھا، جس نے برخاستگی برقرار رکھی۔ بعد ازاں اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی، جسے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سنا، جس میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پولیس تشدد زریاب خان زریاب خان نامی شخص سپریم کورٹ ماورائے عدالت قتل.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پولیس تشدد زریاب خان زریاب خان نامی شخص سپریم کورٹ ماورائے عدالت قتل اور ماورائے عدالت ماورائے عدالت قتل سپریم کورٹ زریاب خان عدالت نے

پڑھیں:

سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری ہوگیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ میں 18 دسمبر 2025 سے 31 دسمبر 2025 تک تعطیلات ہوں گی۔

سپریم کورٹ یکم جنوری 2026 کو چھٹیوں کے بعد دوبارہ کھلے گی،تاہم تعطیلات کے دوران بھی سپریم کورٹ کے دفاتر کھلے رہیں گے۔تعطیلات کے دوران فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت ہوگی۔

یاد رہے کہ چند دن پہلے وفاقی آئینی عدالت نے بھی موسمِ سرما کی تعطیلات کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق وفاقی آئینی عدالت 14 دن کے لئے بند رہے گی، 22 دسمبر 2025 سے 4 جنوری 2026 تک تعطیلات ہوں گی۔

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں استحکام

5 جنوری 2026 کو معمول کے مطابق کام دوبارہ شروع ہو جائے گا، نوٹیفکیشن کے مطابق تعطیلات کے دوران آئینی عدالت کے دفاتر کھلے رہیں گے۔آئینی عدالت میں تعطیلات کے دوران فوری اور مقررہ مقدمات کی سماعت ہوگی۔

 
 

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پولیس کی زیر حراست تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
  • آئین ریاست پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہےکہ وہ ہر شہری کےحقِ زندگی کا تحفظ کرے اور حراستی تشدد اور قتل کو روکے: سپریم کورٹ
  • زیرحراست شہری کو قتل کرنیوالے پولیس اہلکاروں کی سزائیں برقرار: اپیلیں خارج کر دی گئیں
  • زیر حراست ملزمان پر پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل پر سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
  • 90 دن کی مدت پوری کیے بغیر طلاق نافذ نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ نے بغیر قانونی طریقہ کار کے گرفتاری اور تشدد مجرمانہ عمل قرار دیدیا
  • سپریم کورٹ: موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
  • سپریم کورٹ میں موسم سرما کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن جاری
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: 190 ملین پاؤنڈ کیس کے جج کی ڈیپوٹیشن چیلنج، فیصلہ محفوظ