WE News:
2026-07-24@03:53:16 GMT

پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

پولیس تشدد اور ماورائے عدالت قتل ہرگز جائز نہیں، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے پولیس کی جانب سے غیر قانونی حراست، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف بڑا فیصلہ جاری کیا ہے۔ 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ تشدد، غیر انسانی اور توہین آمیز رویہ، ذاتی وقار کی پامالی کسی بھی صورت جائز نہیں۔

عدالت نے واضح کیا کہ بعض اوقات پولیس تشدد کا سہارا لے کر استثنیٰ کے مفروضے کے تحت ملزم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی کوشش کرتی ہے، لیکن یہ عمل ماورائے عدالت قتل کا سبب بن سکتا ہے اور اسے روکنے کے لیے پولیس فورس پر مؤثر اور خصوصی نگرانی ناگزیر ہے۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، ماورائے عدالت حراستی قتل ’فساد فی الارض‘ قرار

سپریم کورٹ نے فیصلہ میں کہا کہ زندگی کا حق سب سے اعلیٰ انسانی حق ہے اور آئین ریاست پر فرض عائد کرتا ہے کہ ہر شہری کے حقِ زندگی، آزادی اور وقار کا تحفظ کرے۔

عدالت نے مزید کہا کہ غیر قانونی حراست، گرفتاری، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف آئینی ضمانتیں اور قانونی اصول موجود ہیں اور پولیس ہر شخص کی جان، آزادی اور عزت کی حفاظت کی پابند ہے۔

عدالت نے زریاب خان نامی شخص کو غیر قانونی حراست میں رکھنے اور تشدد کرنے والے 3 پولیس کانسٹیبلز کی اپیلیں خارج کرتے ہوئے سزائیں برقرار رکھی ہیں۔

مزید پڑھیں: شیخ حسینہ کو اپنی ہی قائم کردہ عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے کہا کہ ان اہلکاروں کا عمل اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے اور نوکری سے برخاست کرنے کے محکمانہ فیصلے ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کو قائم رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔

فیصلے میں آئین کے آرٹیکل 10 اور آرٹیکل 14 کی وضاحت کی گئی، جس کے مطابق گرفتار شخص کو گرفتاری کی وجوہات بتائے بغیر حراست میں نہیں رکھا جا سکتا اور اسے 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے، اور کسی کی عزت نفس یا گھر کی پرائیویسی کی پامالی نہیں کی جا سکتی۔

یہ فیصلہ ڈیرہ غازی خان کے 3 پولیس کانسٹیبلز کی اپیلوں پر آیا، جو زریاب خان کو غیرقانونی حراست میں رکھنے اور قتل کرنے کے الزامات میں شامل تھے۔

مزید پڑھیں: مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی، غیر قانونی گرفتاریاں اور ماورائے عدالت ہلاکتیں معمول بن گئیں

نوکری سے برخاست کرنے کے فیصلے کیخلاف پہلے پنجاب سروس ٹربیونل سے رجوع کیا گیا تھا، جس نے برخاستگی برقرار رکھی۔ بعد ازاں اپیل سپریم کورٹ میں دائر کی گئی، جسے جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سنا، جس میں جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس نعیم اختر افغان شامل تھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پولیس تشدد زریاب خان زریاب خان نامی شخص سپریم کورٹ ماورائے عدالت قتل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پولیس تشدد زریاب خان زریاب خان نامی شخص سپریم کورٹ ماورائے عدالت قتل اور ماورائے عدالت ماورائے عدالت قتل سپریم کورٹ زریاب خان عدالت نے

پڑھیں:

کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع
  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ