ارشد شریف قتل کیس وفاقی آئینی عدالت میںسماعت کیلیے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-01-4
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) وفاقی آئینی عدالت نے صحافی ارشد شریف قتل کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔ جسٹس عامرفاروق اور جسٹس روزی خان پر مشتمل دو رکنی بینچ 3 دسمبر کو صحافی ارشد شریف قتل کیس کی سماعت کرے گا۔عدالت عظمیٰ نے صحافی ارشد شریف کے قتل پر ازخود نوٹس لیا تھا۔واضح رہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کے بعد ازخود نوٹس مقدمات آئینی عدالت کو منتقل ہو چکے ہیں۔خیال رہے کہ 23 اکتوبر 2022 کو کینیا کے شہر نیروبی میں مگاڈی ہائی وے پر پولیس نے ارشد شریف کو سر پر گولی مار کر قتل کیا تھا۔بعدازاں کینیا کی پولیس کی جانب سے واقعہ غلط شناخت کا قرار دیا گیا تاہم ارشد شریف کے قتل کیس کی تحقیقات میں کینیا پولیس کے مؤقف میں تضاد پایا گیا۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی وفاقی آئینی عدالت میں مقدمات چلانے کے حوالے سے فیصلہ نہ کر سکی
تحریک انصاف (پی ٹی آئی) تاحال وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) میں اپنے مقدمات کے حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے سے قاصر ہے، جسے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے قائم کیا گیا تھا۔ پارٹی کے متعدد کیسز سپریم کورٹ سے ایف سی سی منتقل ہو چکے ہیں، تاہم قانونی ٹیم میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا انہیں عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہیے یا نہیں۔
پارٹی کے ایک وکیل نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ اکثریتی رائے یہی ہے کہ ایف سی سی کے سامنے پیش ہو کر قانونی اعتراضات اٹھائے جائیں، لیکن حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
سلمان اکرم راجہ کے وکیل سمیر کھوسہ نے گزشتہ روز ایف سی سی کے چھ رکنی بنچ کے سامنے بتایا کہ انہوں نے اپنے موکل کو عدالت کی آزادی اور اس سے جڑے تحفظات پر مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے کہا:میرے موکل کو اب میرے مشورے پر غور کرنا ہے اور فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ اس معاملے کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں یا متبادل قانونی نمائندگی کا انتظام کریں گے۔”
وکلاء کی ایکشن کمیٹی نے بھی گزشتہ میٹنگ میں وفاقی آئینی عدالت کے بائیکاٹ پر اتفاق رائے قائم نہیں کر سکی۔
اسی حوالے سے بیرسٹر صلاح الدین احمد نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ وہ ایف سی سی میں حکومتی مقدمات کی نمائندگی نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ فورم میں تبدیلی اور عدالتی تقرریوں پر حکومت کے حد سے زیادہ کنٹرول سے مختلف وکلاء کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کی وجہ سے وہ اس عدالت میں اپنا کردار ممکن نہیں سمجھتے۔