پنجاب کے ہر مسافر کے لیے آرام دہ بس شیلٹرز قائم کرنے فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پنجاب حکومت نے شہریوں کے ہر سفر کو باعزت اور پرسکون بنانے کے لیے 1362 بس شیلٹرز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق پنجاب کے 19 اضلاع میں 1362 جدید ، پائیدار اور خوبصورت بس شیلٹرز بنائے جائیں گے۔
وزیر اعلی مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس ہو جس میں اضلاع میں بس شیلٹرز کے قیام کی ڈیڈ لائن طے کی گئی اور شیلٹرز کا ڈئزائن بھی منتخب کیا گیا۔
پر سکون اور باعزت سفر کی سہولت کے لئے بس شیلٹرز 45 سے 60 دنوں میں مکمل ہونگے۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف نے تمام بس شیلٹرزمقررہ ایام میں مکمل کرنے کا ٹارگٹ دے دیا
پنجاب بھر میں 588 بس شیلٹرز کے قیام پر تیزی سے کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ 774 بس شیلٹرز کا ٹینڈر جاری ہے۔
مریم نواز شریف کا کہنا تھا کہ بزرگ ، مائیں اور دیگر شہری دھوپ یا سخت سردی میں انتظار کرنا برداشت نہیں۔خوبصورت اور جدید بس شیلٹرز سہولت کے ساتھ شہروں کے حسن میں بھی اضافہ کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بس شیلٹرز
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔