راولپنڈی، ٹریفک پولیس کا کریک ڈاؤن، ڈی ایس پی ٹریفک سمیت 21 سرکاری گاڑیوں کے چالان ٹکٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
راولپنڈی:
ٹریفک پولیس نے قوانین کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن کی مہم شروع کردی ہے اور سرکاری گاڑیوں سمیت ٹریفک اور ضلعی پولیس افسران بھی اس کی زد میں آگئے ہیں جہاں ٹریفک پولیس نے ڈی ایس پی سمیت 21 سرکاری گاڑیوں کے چالان ٹکٹ جاری کردیے ہیں۔
ایکسپریس نیوز کےمطابق وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے شاہراؤں کو ٹریفک کے لیے محفوظ بنانے اور قوانین کی پابندی سب کے لیے مہم کے تحت راولپنڈی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سٹی ٹریفک پولیس نے کریک ڈاؤن کیا اور سرکاری گاڑیوں سمیت خود ٹریفک و ضلعی پولیس افسران بھی ریڈار پر آگئے ہیں۔
راولپنڈی میں ٹریفک قوانین کے پابندی نہ کرنے والے عناصر کے خلاف بلا تفریق کاروائیاں شروع کردیں گیں محض ایک دن میں خود سٹی ٹریفک پولیس، ضلعی پولیس اور اسلام آباد پولیس سمیت سرکاری محکموں کے افسران و اہلکار ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں میں ملوث پائے گے۔
چیف ٹریفک افسر فرحان اسلم کے احکامات پر کریک ڈاؤن کے دوران ڈی ایس پی ٹریفک کینٹ راولپنڈی کی سرکاری گاڑی بھی کالے شیشوں پر پکڑ میں آگئی، ڈی ایس پی ٹریفک کینٹ کی سرکاری گاڑی کا 500 روپے کا چالان ٹکٹ جاری کیا گیا اور کالے پیپر اتارے گئے۔
چیف ٹریفک افسر فرحان اسلم نے ڈی ایس پی سے وضاحت طلب کرکے ڈی ایس پی کے سرکاری ڈرائیور کو شوکاز نوٹس بھی جاری کردیا۔
ٹریفک پولیس کی جانب سے محض ایک دن میں مجموعی طور پر 21 سرکاری وہیکلز کو ون وے خلاف ورزی، کالے شیشوں کے استمعال اور بغیر ہیلمٹ اور نمبر پلیٹ کی پابندی نہ کرنے پر چالان ٹکٹ جاری کیے گیے۔
سی ٹی او راولپنڈی فرحان اسلم کا کہنا تھاکہ قانون سب کے لیے برابر ہے، سرکاری افسران اور عملہ بھی قانون کی پابندی کرے۔
فرحان اسلم نے کہا کہ ٹریفک قوانین کی پابندی یقینی بنانے کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کے تحت قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جارہا ہے، جو سرکاری ملازم بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل، بغیر نمبر پلیٹ گاڑی چلائے گا اس کا چالان ہو گا اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے سرکاری ملازم کو چالان کے ساتھ متعلقہ محکمے کو بھی محکمانہ کارروائی کے لیے لکھا جائے گا۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: چالان ٹکٹ جاری سرکاری گاڑیوں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ٹریفک پولیس قوانین کی کریک ڈاؤن کی پابندی ڈی ایس پی کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں ای چالان کے خلاف درخواست پر سندھ ہائیکورٹ کی اہم کارروائی
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جاری ہونے والے ای چالان اور موٹر وہیکل آرڈیننس میں ہونے والی ترامیم کے خلاف دائر درخواست پر پیش رفت کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
جسٹس عدنان اقبال چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جہاں درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ شہر کا ٹریفک نظام درہم برہم ہے، سڑکوں کی حالت خستہ ہے اور متعدد ٹریفک سگنلز بھی فعال نہیں، اس کے باوجود اب تک 93 ہزار سے زائد ای چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔
درخواست گزار نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت کے مطابق ای چالان کے جرمانوں سے متعلق نوٹیفکیشن ابھی تک گزٹ میں شائع نہیں ہوا، جس کا مطلب ہے کہ صرف 2023 کے منظور شدہ جرمانے ہی قانونی طور پر نافذ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ای چالان میں عائد بھاری جرمانے غیر قانونی ہیں۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا اور ہدایت کی کہ اس درخواست کو اسی نوعیت کے دیگر مقدمات کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔