اسلام آباد:

وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نو فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا، ٹیکس نیٹ بڑھانا وقت کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوچکا، معیشت درست سمت میں گامزن ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ کو تنقید کے طور پر نہیں اصلاحات کے لیے رہنمائی تصور کیا جانا چاہیے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مسئلہ ملازمین کا نہیں بلکہ سبسڈی کی رقم میں ہونے والی کرپشن کا ہے، کوئی ایسی گرانٹ منظور ہو ہی نہیں سکتی جس کی پارلیمنٹ منظوری نہ دے، آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوچکا ہے، یو ایس ایگزم بینک بھی ریکوڈک منصوبے کی فنانسنگ میں واپس آگیا ہے یہ منصوبہ ملک کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے ادائیگیوں کا توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ انتہائی اہم ہیں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی جاری ہے، وزیراعظم نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کی ہدایت دی، سمری منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی ہے آئندہ ہفتے نیشنل فنانس کمیشن کا اجلاس بھی ہوگاحکومت کی پالیسیوں کے واضح اور فیصلہ کن رخ کی نشاندہی کی جس کا مرکز نجی شعبے کی قیادت میں جامع اور برآمدات پر مبنی ترقی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کے خاتمے کا فیصلہ اسی وژن کی عملی مثال ہے جو نہ صرف برآمدکنندگان کو ریلیف فراہم کرے گا بلکہ مسابقت میں اضافہ اور پائیدار اقتصادی استحکام کی بنیاد رکھے گا۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے گورننس ڈھانچے میں اصلاحات کی منظوری بھی دے دی گئی ہے جبکہ نجی شعبے کی تجویز سے آگے بڑھتے ہوئے حکومت نے 1991ء سے نافذ 0.

25 فیصد سرچارج مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اس سلسلے کی سمری کابینہ کو ارسال کر دی گئی ہےمنظوری کے بعد فوری عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔

آئی ایم ایف کرپشن رپورٹ پر بیان

وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی گورننس، ڈائیگناسٹک اور کرپشن رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جائزہ حکومت نے خود درخواست کر کے کرایا، جو شفافیت اور اصلاحات کے عزم کا ثبوت ہے رپورٹ میں ٹیکسیشن، گورننس، پبلک فنانشل مینجمنٹ اور پروکیورمنٹ جیسے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کا اعتراف کیا گیا ہے جبکہ بیشتر اہم اصلاحات پہلے ہی جاری ہیں۔

وزیر نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ کو تنقید کے طور پر نہیں بلکہ اصلاحات کے سفر کو تیز کرنے کے لیے رہنمائی تصور کیا جانا چاہیے۔

سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا درمیانی مدت کا وژن استحکام سے پائیدار اور جامع ترقی کی طرف منتقل ہونا ہے، جو برآمدات، ترسیلات، نجی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے پر مبنی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جولائی تا اکتوبر ملکی صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی جن میں سیمنٹ کی پیداوار میں 16 فیصد، کھاد میں 9 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 4 فیصد، آٹوموبائلز میں 31 فیصد اور موبائل فون کی تیاری میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑے پیمانے کی صنعت کی شرح نمو بھی گزشتہ سال کی منفی کارکردگی کے مقابلے میں 4.1 فیصد رہی ۔

وزیر خزانہ نے برآمدات میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی برآمدات 5 فیصد اور آئی ٹی برآمدات 20 فیصد سے زائد بڑھیں، جبکہ ستمبر اور اکتوبر میں آئی ٹی سیکٹر نے مسلسل دو ماہ نئی بلند ترین سطحیں حاصل کیں۔

انہوں نے بتایا کہ ریکوڈک سے متعلق 3.5 ارب ڈالر مالیت کی عالمی فنانسنگ کا مالی اختتام ہو گیا ہے، جو مستقبل میں تقریباً 2.8 سے 2.9 ارب ڈالر سالانہ برآمدی آمدن پیدا کرے گی۔

ترسیلات زر کے بارے میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کے بعد رواں سال ترسیلات 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ کو مضبوط سہارا ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ درآمدی پالیسی میں بھی اصلاحات جاری ہیں تاکہ خام مال اور درمیانی اشیا کی درآمد کو ترجیح دے کر صنعتوں کی مسابقت بڑھائی جاسکے اور پرانی حفاظتی پالیسیوں کو بتدریج ختم کیا جاسکے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس اب باضابطہ طور پر فعال ہو چکا ہے اور وہ بجٹ اور ٹیکس پالیسی کی تیاری کا مکمل اختیار رکھے گا جبکہ ایف بی آر کو ٹیکس نفاذ اور ٹیکنالوجی پر مبنی انتظامی اصلاحات پر مرکوز کیا جا رہا ہے۔

پبلک فنانس کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ نو سال بعد پہلی مرتبہ ملکی قرضوں میں استحکام آیا ہے جبکہ پالیسی ریٹ میں کمی کے بعد قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بھی کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ دسمبر تک یا چینی نئے سال سے قبل جاری کر دیا جائے گا، جس سے فنڈنگ کے ذرائع میں تنوع اور لاگت میں کمی آئے گی۔

وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا عمل اگلے ہفتے سے شروع ہو رہا ہے جس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور مالیاتی ٹیمیں شریک ہوں گی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ قومی مالیاتی معاہدے کی طرح اس عمل میں بھی پاکستان فرسٹ کے جذبے سے پیش رفت ہوگی۔

توانائی، ٹیکسوں اور مسابقت سے متعلق سوالات پر انہوں نے کہا کہ رسمی شعبہ زیادہ ٹیکس بوجھ اور ٹیرف کا سامنا کر رہا ہے جس کا حل ٹیکس بیس میں توسیع، عمل درآمد میں بہتری اور لیکیجز کے خاتمے سے ہی ممکن ہے، ٹیکس ریفنڈز میں پانچ ماہ کے دوران 200 ارب روپے سے بڑھ کر 250 ارب روپے تک اضافہ کیا گیا ہے جو صنعت کے لیے سہولت کاری کا ثبوت ہے۔

چینی اور زرعی کموڈٹی گورننس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائیدار اصلاحات کا تقاضا ہے کہ حکومت درآمد، پروسیسنگ اور تجارت سے مکمل طور پر دور ہو کر مارکیٹ کو شفاف اور مسابقتی بنایا جائے۔

سینیٹر اورنگزیب نے مختلف شعبوں میں غیر ملکی کمپنیوں کی بڑھتی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ توانائی، مائننگ، آئی ٹی، ٹیلی کام، تعمیرات، لاجسٹکس اور الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ میں عالمی اداروں کی جانب سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی آرامکو سے لے کر بیرک گولڈ، چینی، ترک اور اماراتی کمپنیوں سمیت گوگل بھی پاکستان میں اپنا دفتر کھولنے جا رہا ہے جو مستقبل میں تکنیکی اور برآمدی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان دو سال پہلے کے بحران سے نکل چکا ہے اور اب ایک مستحکم، برآمدات پر مبنی اور سرمایہ کاری سے تقویت پانے والے ترقیاتی ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے۔

انہوں نے یقین دلایا کہ زرعی شعبہ، بڑی صنعتیں، نئی معیشت، ترسیلات اور نجی سرمایہ کاری مستقبل میں ایک مضبوط اور جامع اقتصادی ڈھانچہ فراہم کریں گے۔

انہوں نے ماہانہ بنیادوں پر میڈیا کو پیشرفت سے آگاہ رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: انہوں نے بتایا کہ ا ئی ایم ایف کی اصلاحات کے کرتے ہوئے نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل

راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار  کرلیا۔

پولیس کے مطابق  بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے  کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔

والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو  بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔

پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان  کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق