آئی ایم ایف کی رپورٹ کو تنقید نہیں اصلاحات کے لیے رہنمائی تصور کیا جائے، وزیر خزانہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ نو فیصد ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے ساتھ ملک نہیں چل سکتا، ٹیکس نیٹ بڑھانا وقت کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوچکا، معیشت درست سمت میں گامزن ہے، آئی ایم ایف کی رپورٹ کو تنقید کے طور پر نہیں اصلاحات کے لیے رہنمائی تصور کیا جانا چاہیے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ مسئلہ ملازمین کا نہیں بلکہ سبسڈی کی رقم میں ہونے والی کرپشن کا ہے، کوئی ایسی گرانٹ منظور ہو ہی نہیں سکتی جس کی پارلیمنٹ منظوری نہ دے، آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ ہوچکا ہے، یو ایس ایگزم بینک بھی ریکوڈک منصوبے کی فنانسنگ میں واپس آگیا ہے یہ منصوبہ ملک کیلئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مزید کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے ادائیگیوں کا توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ انتہائی اہم ہیں نجی شعبے کی حوصلہ افزائی جاری ہے، وزیراعظم نے ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ سرچارج ختم کرنے کی ہدایت دی، سمری منظوری کیلئے وفاقی کابینہ کو ارسال کر دی ہے آئندہ ہفتے نیشنل فنانس کمیشن کا اجلاس بھی ہوگاحکومت کی پالیسیوں کے واضح اور فیصلہ کن رخ کی نشاندہی کی جس کا مرکز نجی شعبے کی قیادت میں جامع اور برآمدات پر مبنی ترقی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ سرچارج کے خاتمے کا فیصلہ اسی وژن کی عملی مثال ہے جو نہ صرف برآمدکنندگان کو ریلیف فراہم کرے گا بلکہ مسابقت میں اضافہ اور پائیدار اقتصادی استحکام کی بنیاد رکھے گا۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت پر ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے گورننس ڈھانچے میں اصلاحات کی منظوری بھی دے دی گئی ہے جبکہ نجی شعبے کی تجویز سے آگے بڑھتے ہوئے حکومت نے 1991ء سے نافذ 0.
آئی ایم ایف کرپشن رپورٹ پر بیان
وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کی گورننس، ڈائیگناسٹک اور کرپشن رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ جائزہ حکومت نے خود درخواست کر کے کرایا، جو شفافیت اور اصلاحات کے عزم کا ثبوت ہے رپورٹ میں ٹیکسیشن، گورننس، پبلک فنانشل مینجمنٹ اور پروکیورمنٹ جیسے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کا اعتراف کیا گیا ہے جبکہ بیشتر اہم اصلاحات پہلے ہی جاری ہیں۔
وزیر نے واضح کیا کہ آئی ایم ایف کی رپورٹ کو تنقید کے طور پر نہیں بلکہ اصلاحات کے سفر کو تیز کرنے کے لیے رہنمائی تصور کیا جانا چاہیے۔
سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ حکومت کا درمیانی مدت کا وژن استحکام سے پائیدار اور جامع ترقی کی طرف منتقل ہونا ہے، جو برآمدات، ترسیلات، نجی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت میں اضافے پر مبنی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جولائی تا اکتوبر ملکی صنعتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی جن میں سیمنٹ کی پیداوار میں 16 فیصد، کھاد میں 9 فیصد، پیٹرولیم مصنوعات میں 4 فیصد، آٹوموبائلز میں 31 فیصد اور موبائل فون کی تیاری میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔ بڑے پیمانے کی صنعت کی شرح نمو بھی گزشتہ سال کی منفی کارکردگی کے مقابلے میں 4.1 فیصد رہی ۔
وزیر خزانہ نے برآمدات میں بہتری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ مجموعی برآمدات 5 فیصد اور آئی ٹی برآمدات 20 فیصد سے زائد بڑھیں، جبکہ ستمبر اور اکتوبر میں آئی ٹی سیکٹر نے مسلسل دو ماہ نئی بلند ترین سطحیں حاصل کیں۔
انہوں نے بتایا کہ ریکوڈک سے متعلق 3.5 ارب ڈالر مالیت کی عالمی فنانسنگ کا مالی اختتام ہو گیا ہے، جو مستقبل میں تقریباً 2.8 سے 2.9 ارب ڈالر سالانہ برآمدی آمدن پیدا کرے گی۔
ترسیلات زر کے بارے میں وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ سال 38 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کے بعد رواں سال ترسیلات 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی، جس سے کرنٹ اکاؤنٹ کو مضبوط سہارا ملے گا۔
انہوں نے کہا کہ درآمدی پالیسی میں بھی اصلاحات جاری ہیں تاکہ خام مال اور درمیانی اشیا کی درآمد کو ترجیح دے کر صنعتوں کی مسابقت بڑھائی جاسکے اور پرانی حفاظتی پالیسیوں کو بتدریج ختم کیا جاسکے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی آفس اب باضابطہ طور پر فعال ہو چکا ہے اور وہ بجٹ اور ٹیکس پالیسی کی تیاری کا مکمل اختیار رکھے گا جبکہ ایف بی آر کو ٹیکس نفاذ اور ٹیکنالوجی پر مبنی انتظامی اصلاحات پر مرکوز کیا جا رہا ہے۔
پبلک فنانس کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ نو سال بعد پہلی مرتبہ ملکی قرضوں میں استحکام آیا ہے جبکہ پالیسی ریٹ میں کمی کے بعد قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بھی کم ہونا شروع ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ دسمبر تک یا چینی نئے سال سے قبل جاری کر دیا جائے گا، جس سے فنڈنگ کے ذرائع میں تنوع اور لاگت میں کمی آئے گی۔
وزیر خزانہ نے اعلان کیا کہ 11ویں این ایف سی ایوارڈ کا عمل اگلے ہفتے سے شروع ہو رہا ہے جس میں صوبائی وزرائے اعلیٰ اور مالیاتی ٹیمیں شریک ہوں گی۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ قومی مالیاتی معاہدے کی طرح اس عمل میں بھی پاکستان فرسٹ کے جذبے سے پیش رفت ہوگی۔
توانائی، ٹیکسوں اور مسابقت سے متعلق سوالات پر انہوں نے کہا کہ رسمی شعبہ زیادہ ٹیکس بوجھ اور ٹیرف کا سامنا کر رہا ہے جس کا حل ٹیکس بیس میں توسیع، عمل درآمد میں بہتری اور لیکیجز کے خاتمے سے ہی ممکن ہے، ٹیکس ریفنڈز میں پانچ ماہ کے دوران 200 ارب روپے سے بڑھ کر 250 ارب روپے تک اضافہ کیا گیا ہے جو صنعت کے لیے سہولت کاری کا ثبوت ہے۔
چینی اور زرعی کموڈٹی گورننس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پائیدار اصلاحات کا تقاضا ہے کہ حکومت درآمد، پروسیسنگ اور تجارت سے مکمل طور پر دور ہو کر مارکیٹ کو شفاف اور مسابقتی بنایا جائے۔
سینیٹر اورنگزیب نے مختلف شعبوں میں غیر ملکی کمپنیوں کی بڑھتی دلچسپی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ توانائی، مائننگ، آئی ٹی، ٹیلی کام، تعمیرات، لاجسٹکس اور الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ میں عالمی اداروں کی جانب سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سعودی آرامکو سے لے کر بیرک گولڈ، چینی، ترک اور اماراتی کمپنیوں سمیت گوگل بھی پاکستان میں اپنا دفتر کھولنے جا رہا ہے جو مستقبل میں تکنیکی اور برآمدی سرگرمیوں کا مرکز بنے گا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان دو سال پہلے کے بحران سے نکل چکا ہے اور اب ایک مستحکم، برآمدات پر مبنی اور سرمایہ کاری سے تقویت پانے والے ترقیاتی ماڈل کی طرف بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ زرعی شعبہ، بڑی صنعتیں، نئی معیشت، ترسیلات اور نجی سرمایہ کاری مستقبل میں ایک مضبوط اور جامع اقتصادی ڈھانچہ فراہم کریں گے۔
انہوں نے ماہانہ بنیادوں پر میڈیا کو پیشرفت سے آگاہ رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: انہوں نے بتایا کہ ا ئی ایم ایف کی اصلاحات کے کرتے ہوئے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
اقوامِ متحدہ نے افغان بارڈر کی بندش پر نظرثانی کی درخواست کردی، فیصلہ قیادت سے مشاورت کے بعد ہوگا: اسحاق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ نے پاکستان سے افغان بارڈر کی بندش کے فیصلے پر نظرثانی کرنے کی باضابطہ درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر عسکری قیادت اور وزیراعظم سے مشاورت کی جائے گی۔
اسلام آباد میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ گزشتہ روز دفترِ خارجہ کو اقوام متحدہ کی جانب سے خط موصول ہوا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ افغانستان کے ساتھ بارڈر بند رکھنے کے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان لازمی غذائی اشیا کے لیے افغان عوام کو سہولت دینے پر غور کرے گا اور امید ہے کہ اس حوالے سے اجازت جلد دے دی جائے گی۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ وہ اب تک افغانستان کے تین دورے کر چکے ہیں اور واضح کر چکے ہیں کہ ہمسائے تبدیل نہیں ہوتے۔ افغان عبوری حکومت کو سمجھایا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کا مسئلہ حل نہ کیا گیا تو مشکلات صرف پاکستان کے لیے نہیں، افغانستان کے لیے بھی بڑھیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں افغانستان سے کچھ نہیں چاہیے، بس اتنی درخواست ہے کہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور ’’ضرورت پڑی تو دہشت گردوں کو گھر میں گھس کر ماریں گے‘‘۔ ان کے مطابق قطر کی درخواست پر کلین اپ آپریشن کچھ عرصے کے لیے روکا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سرحد ہم نے خوشی سے بند نہیں کی، 40 لاکھ سے زائد افغان شہری برسوں سے پاکستان میں مقیم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ نے تجویز دی ہے کہ روس، ایران، قطر، ترکی، پاکستان اور افغانستان مل بیٹھ کر مسائل پر بات کریں۔ یورپی یونین حکام کو بھی پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان میں امن چاہتا ہے۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کو ریلوے کے ذریعے جوڑنے کے منصوبے پر بھی کام ہوا تھا اور تینوں ممالک کی موجودگی میں معاہدہ سائن کیا گیا، مگر عملی سطح پر پیش رفت نظر نہیں آئی۔ ‘‘ہم اچھے اقدامات کرتے رہیں اور دوسری طرف رویہ ایسا ہو تو معاملہ مشکل ہوجاتا ہے،’’ انہوں نے کہا۔
اسحاق ڈار نے اپنے دورۂ ماسکو کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ صدر پیوٹن سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں بہت مثبت رہیں، اور یورپی یونین کے ساتھ بھی کھل کر گفتگو ہوئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہ وقت زیادہ دور نہیں جب دنیا—مسلم اور غیر مسلم—دہشتگردی کے خاتمے کے لیے متحد ہو جائے گی، اور پاکستان اس تعاون میں ایک قدم آگے بڑھ کر کردار ادا کرے گا۔