اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی  وزیر خزانہ  سینیٹر محمد  اورنگزیب  نے کہا ہے کہ  آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ  ہوچکا ہے، این  ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے آئندہ  ہفتے  اجلاس  ہوگا۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے  وزیر خزانہ محمد  اورنگزیب کا کہنا تھا کہ  حکومت ڈھانچہ جاتی اصلاحات  پر عمل  پیرا ہے، اصلاحات کے عمل میں پیش رفت جاری ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ کلائمیٹ فنانسنگ بہت اہم ہے، مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بہتری خوش آئند ہے، پائیدار ترقی کے لیے ادائیگی کا توازن اور کرنٹ اکاؤنٹ اہم ہیں، مجموعی طور پر برآمدات میں پانچ فیصد اضافہ ہوا ہے۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ  معاشی بہتری کے تسلسل کو برقرار رکھنا ہے،آئی ٹی شعبے میں ماہانہ بنیادوں پر بہتری دیکھی جارہی ہے،ترسیلات  زر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، آئی ٹی سیکٹر  بہترین کارکردگی پیش کر رہا ہے، حکومت نجی شعبے کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ  پالیسی ریٹ کم ہونے کا قرض ادائیگی پر مثبت اثر مرتب ہوا، پانڈا بانڈ کا جلد اجراء کرنے جا رہے ہیں، ہم سب ’’پاکستان فرسٹ‘‘ کے ایجنڈے کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔

سی سی ڈی کا منشیات کے خلاف پہلا گرینڈ آپریشن، غازی ککے میں کارروائی جاری

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: کا کہنا تھا کہ

پڑھیں:

وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی

اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔

اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔

پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔

وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔

مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
  • پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
  • وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے گورنر خیبرپختونخوا کی ملاقات
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی