Daily Mumtaz:
2026-07-24@07:32:08 GMT

ملکی معیشت درست سمت گامزن ہے،وزیرخزانہ

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

ملکی معیشت درست سمت گامزن ہے،وزیرخزانہ

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے ملکی معاشی صورتحال اور صنعتی سرگرمیوں میں بہتری پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مقامی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جو معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کی جانب مثبت اشارہ ہے۔

وزیر خزانہ نے بتایا کہ ملکی معیشت درست سمت گامزن ہے گزشتہ چار ماہ کے دوران مختلف معاشی شعبوں میں قابل ذکر بہتری ریکارڈ کی گئی ہے۔ ان کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 9 فیصد اضافہ ہوا، آٹو سیکٹر میں 4 فیصد بہتری آئی، جبکہ موبائل فونز کی پروڈکشن اور سیلز میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ان اعداد و شمار کا مجموعی اثر لارج اسکیل مینوفیکچرنگ پر پڑا ہے، جو سالِ رواں کی پہلی سہ ماہی میں 4.

1 فیصد تک بڑھ چکی ہے، جبکہ ستمبر میں یہی شرح 2 فیصد تھی۔ وزیر خزانہ کے مطابق ماہانہ اور سالانہ بنیادوں پر صنعتی شعبے میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملکی معیشت صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’یہ تمام اشارے بہت مثبت ہیں اور ہمیں بتاتے ہیں کہ ملکی معاشی بحالی کا عمل مضبوط ہو رہا ہے۔ اب ہماری بنیادی توجہ اس بات پر ہے کہ اس ترقی کو کیسے برقرار رکھا جائے اور اسے پائیدار بنایا جائے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ گولڈ رش کی دوڑ میں جانے کے بجائے حکومت کا ہدف معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنا ہے، اور اسی حکمت عملی کے تحت بڑے منصوبوں پر کام تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ یو ایس Aegis منصوبہ دوبارہ فعال ہو چکا ہے اور اس کا فنانشل کلوز بھی مکمل ہو گیا ہے، جس سے توانائی کے شعبے میں اہم پیش رفت ہوگی۔

ان کے مطابق یہ ’’گیم چینجر‘‘ منصوبہ ہے جس کے ذریعے پہلے سال میں 2.9 بلین ڈالر کی پروڈکشن متوقع ہے۔

وزیر خزانہ نے ترسیلات زر کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال 38 ملین ڈالر موصول ہوئے، جبکہ رواں سال اس میں مزید نمایاں بہتری کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس شعبے میں کم از کم 3 بلین ڈالر کا اضافی فرق کرنٹ اکاؤنٹ میں بہتری کا سبب بنے گا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ درآمدات پر بھی باریک بینی سے نظر رکھی ہوئی ہے۔ ’’اگر ٹیرف ریجیم کے باعث خام مال اور انٹرمیڈیٹ گڈز کی درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ معیشت کے لیے خوش آئند ہے کیونکہ اس سے صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ حکومت نے غیر ضروری پروٹیکشن ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملکی صنعتیں عالمی مسابقت کے مطابق خود کو مستحکم کر سکیں۔

 

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: نے کہا کہ کے مطابق کہ ملکی

پڑھیں:

امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان

نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔

Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…

— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔

یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔

امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔

یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔

دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔

امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔

مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے

متعلقہ مضامین

  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • ویژن 2030 نے سعودی معاشرے کو نئی سمت دے دی، خواتین، صحت اور ثقافت کے شعبوں میں نمایاں کامیابیاں
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ