Juraat:
2026-06-03@06:37:25 GMT

معیشت میں بہتری کیلئے بہتر طرز حکمرانی کی ضرورت

اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT

معیشت میں بہتری کیلئے بہتر طرز حکمرانی کی ضرورت

وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ اس وقت معیشت کو پیداوار میں اضافے، بہتر طرزِ حکمرانی اور کاروباری اصلاحات کی ضرورت ہے، تاکہ ملک اپنے مسائل سے نکلنے کیلئے برآمدات کے ذریعے راستہ بنائے تا کہ ترسیلات اور قرض پر چلنے والی کھپت پر مبنی نمو سے نکل سے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت اُس تیز رفتار معاشی نمو کی حکمتِ عملی سے دور ہو رہی ہے جس نے بارہا ملک کو معاشی بحرانوں میں دھکیل دیا، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے اس بیان سے واضح ہوتاہے کہ وہ موجودہ طرز حکمرانی اور حکومت کی جانب سے معاشی اصلاحات کے اعلانات سے مطمئن نہیں ہیں ،اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ طرز حکمرانی میں موجود خامیاں اور کاروباری اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے معیشت کو پیداوار میں اضافے کی بنیاد پر استوار نہیں کیاجاسکا ہے اور ملک ترسیلات زراور قرضوں پر کھڑاہے، یقینا وزیرخزانہ کا یہ بیان اُن لوگوں کیلئے مایوس کن ہوگا جو قلیل مدتی سوچ رکھتے ہیں اور ذاتی فائدے کیلئے معیشت کی ترقی کے ڈھنڈورے پیٹ رہے ہیں، ان کا یہ بیان ان لوگوں کیلئے بھی مایوس کن ہوگا جو ایک اور’بوم سائیکل‘کی توقع لگائے بیٹھے تھے تاکہ انھیں اپنی تجوریاں بھرنے کا موقع مل سکے۔

گزشتہ روز روز پاکستان بزنس کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ماضی کے طریقوں سے ہٹ کر معاشی سمت میں واضح تبدیلی کا اشارہ دیا اور واضح کیا کہ اب ہمارا ہدف 5 سے 6 فیصد کی قلیل مدتی جی ڈی پی نمو کے حصول کا نہیں، جو ماضی میں عدم استحکام کا سبب بنی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نمو کے سابقہ چکروں کو دہرانا نہیں چاہتے جو انتہائی ناپائیدار ثابت ہوئے۔ اس کے بجائے اب ہماری توجہ معیشت کو مستحکم بنیادوں پر کھڑا کرنے، بوم اینڈ بسٹ سائیکل ختم کرنے اور پائیدار ترقی کی جانب بڑھنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ اصل چیلنج معیشت کو ترقی کی راہ پر ڈالنا نہیں بلکہ اس رفتار کو برقرار رکھنا ہے، جب ایک بار یہ حاصل ہو جائے۔اگلے2سے3 برسوں میں تقریباً 4 فیصد اور درمیانی مدت میں 6 سے 7 فیصد تک کی نمو کی اُن کی پیشگوئی اس کمزور معیشت کیلئے حقیقت پسندانہ تاثر رکھتی ہے۔

پاکستان بلاشبہ اُس مرحلے سے بہت آگے نکل آیا ہے جب وہ دیوالیہ ہونے کے دہانے پر کھڑا تھا۔ تاہم وزیر خزانہ کے بیان سے ظاہرہوتاہے کہ یہ مشکل سے حاصل شدہ استحکام جو عوام نے بھاری قیمت چکاکر حاصل کیا گیاحکومت کے تمامتر دعووں کے برعکس اب بھی کمزور اور غیرمستحکم ہے۔ یہ زیادہ تر پائیدار صنعتی و برآمدی صلاحیت کی بجائے ترسیلات زر کے مسلسل بلند رہنے پر انحصار کرتا ہے اور ترسیلات زر میں معمولی سی کمی یا دباؤ بھی اس استحکام کو باآسانی گرا سکتا ہے۔ اس کی مثال بیرونی شعبے پر بڑھتا ہوا دباؤ ہے، جہاں موجودہ مالی سال کے ابتدائی 4ماہ میں معمولی معاشی رفتار کے نتیجے میں تجارت اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے تیزی سے بڑھے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مہنگی توانائی، بھاری ٹیکس بوجھ، اور سکڑتی ہوئی طلب کے باعث منظم کاروباری شعبے کیلئے حالات بہت سخت ہیں۔ لیکن عام شہری کیلئے حالات اس سے بھی زیادہ کٹھن ہیں جو بڑھتی بے روزگاری، حقیقی اجرتوں میں کمی اور مہنگائی کے طوفان سے نبرد آزما ہیں۔ اگر صرف اس لئے ملک ایک نئے بیلنس آف پیمنٹس بحران میں واپس لڑھک جائے کہ جائداد کے سوداگر اور بڑے تاجر استحکام کی پالیسیوں سے ناخوش ہیں، تو یہ انتہائی بدقسمتی ہوگی۔اس وقت معیشت کو ضرورت پیداوار میں اضافے، بہتر طرزِ حکمرانی اور کاروباری اصلاحات کی ہے، تاکہ ملک اپنے مسائل سے نکلنے کیلئے برآمدات کے ذریعے راستہ بنائے نہ کہ ترسیلات اور قرض پر چلنے والی کھپت کی بنیاد پر اپنی کامیابیوں کے ڈھنڈورے پیٹے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: معیشت کو

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • مہنگائی کے دباؤ میں مزدوروں کو ریلیف دینے کی سفارش، کم از کم تنخواہ میں 12.5 فیصد اضافے کی تجویز
  • پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
  • کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ