نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے پاکستان غزہ امن فورس کے تحت فوج بھیجنے کے لیے تیار ہے لیکن پہلے اس کے ٹی او آر، مینڈیٹ اور کردار کو واضح طور پر طے کیا جائے۔اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کو غیر مسلح کرنا فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دائرہ کار میں آتا ہے، پاکستان اس کے لیے تیار نہیں ہے، حماس کو غیر مسلح کرنے پر انڈونیشیا نے بھی تحفظات ظاہر کیے ہیں۔اسحاق ڈار نے کہا انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں پاکستانی فوجی دستوں سے متعلق پاکستان نے واضح کیا کہ اسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے تسلیم شدہ ہونا چاہیے، وزیراعظم نے فیلڈ مارشل سے مشورہ کرکے فورس بھیجنے کا اصولی اعلان کیا۔وزیر خارجہ نے کہا اقوام متحدہ کی درخواست پر افغان عوام کے لیے کھانے پینے کی چیزیں اور انسانی امداد بھیجنے کا فیصلہ آج کر لیں گے۔

.

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار

پڑھیں:

اسرائیل، رفح بحران کے حل کیلئے ثالثوں کو جواب نہیں دے رہا، حماس

غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح میں واقع سرنگوں میں حماس کے مزاحمتکار اسرائیل سے مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اس علاقے سے باہر اور کمانڈ سنٹر سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ فلسطین کی مقاومتی تحریک حماس کے ترجمان "حازم قاسم" نے اسرائیل پر تنقید کی کہ وہ جنوبی غزہ کے مزاحمتی کارکنوں کے معاملے میں تعاون نہیں کرنے رہا۔ اس بارے میں انہوں نے کہا اسرائیل نے رفح میں پیدا کردہ بحران کو حل کرنے کے لئے ثالثوں کی کسی بھی بات کا جواب نہیں دیا۔ حازم قاسم نے کہا کہ غاصب صیہونی رژیم کو رفح میں استقامت کاروں کی جانب سے ہتھیار ڈالنے کی کوئی تصویر بھی نہیں ملے گی۔ انہوں نے فلسطینی مزاحمت کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہماری ڈکشنری میں ہتھیار ڈالنا یا خود کو غاصب رژیم کے حوالے کرنا نہیں ہے۔
  کہا جا رہا ہے کہ غزہ پٹی کے جنوبی شہر رفح میں واقع سرنگوں میں حماس کے مزاحمت کار اسرائیل سے مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ ان کا اس علاقے سے باہر اور کمانڈ سنٹر سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ اس لئے ان تک استقامتی محاذ کے تازہ ترین آرڈر نہیں پہنچ رہے۔ دوسری جانب چونکہ یہ علاقے جنگ بندی کے معاہدے (زرد خطے) سے باہر واقع ہیں، اس لیے صیہونی رژیم نے جنگ بندی نافذ ہونے کے باوجود مجاہدین کے خلاف فضائی اور زمینی حملے بند نہیں کئے۔ رفح میں ہونے والی جھڑپوں کے باعث صیہونی فوجیوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ اسی بات کو جواز بنا کر اسرائیل، غزہ کے خلاف جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فوج غزہ بھیجنے کیلئے تیار، حماس کو کمزور کرنے کا حصہ نہیں بنیں گے: اسحاق ڈار
  • پاکستان غزہ امن فورس کے لیے فوجی بھجوانے کو تیار، حماس کو غیر مسلح کرنے کے عمل میں شامل نہیں ہو گا: اسحاق ڈار
  • اسرائیل، رفح بحران کے حل کیلئے ثالثوں کو جواب نہیں دے رہا، حماس
  • کہانی فلسطین کی
  • ماسکو اجلاس میں پاکستان کے معاشی ترجیحات پر بات کی: اسحاق ڈار
  • ماسکو اجلاس میں پاکستان کے معاشی ترجیحات پر بات کی، اسحاق ڈار
  • پاکستان 30ویں ای سی او وزرائے خارجہ کونسل کی میزبانی کے لیے تیار
  • رفح میں فلسطینی مجاہدین کے خلاف صہیونی درندگی کا مقصد جنگ بندی کو سبوتاژ کرنا ہے، حماس
  • بردار ملک بحرین کے ساتھ اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کیلئے تیار ہیں: وزیراعظم