ٹیسٹ سیریز میں بدترین شکست، بھارت نے ون ڈے میں کوہلی اور روہت سے امیدیں لگالیں
اشاعت کی تاریخ: 30th, November 2025 GMT
ٹیسٹ سیریز میں بدترین شکست کے بعد بھارت نے ون ڈے سیریز میں ویرات کوہلی اور روہت شرما سے امیدیں لگالیں۔
تفصیلات کے مطابق بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان تین ایک روزہ میچز کی سیریز کا پہلامیچ آج رانچی میں کھیلا جائے گا۔
پروٹیز سے ٹیسٹ سیریز میں شکست کے باوجود ایک روزہ کرکٹ میں اچھے ریکارڈ کی وجہ سے میزبان سائیڈ کے حوصلے بلند ہیں۔
بھارت نے گزشتہ ڈھائی برس میں ون ڈے فارمیٹ کے ایشیا کپ اور چیمپئنز ٹرافی میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ ورلڈکپ کا فائنل بھی کھیلا۔
ون ڈے فارمیٹ میں سابق کپتان ویرات کوہلی اور روہت شرما کی موجودگی بھی بھارتی ٹیم کو ڈھارس دے گی۔
تاہم بھارت کے مستقل کپتان شبمان گل اور نائب کپتان شریاس ایئر دونوں ہی انجرڈ ہیں۔ بھارتی ٹیم کی قیادت کے ایل راہول کریں گے۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
آکسفورڈ ڈیبیٹ: پاکستانی طلبہ نے بھارتی پینل کو بھاری شکست دی
آکسفورڈ یونین میں ہونے والے پاک بھارت مباحثے میں پاکستانی طلبہ نے بھارتی موقف کو واضح اکثریت سے شکست دے دی۔ مباحثے کا موضوع تھا: “بھارت کی پاکستان پالیسی دراصل عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمتِ عملی ہے، جسے سیکیورٹی پالیسی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔”
ابتدائی طور پر بھارت نے اعلیٰ سطح کے مقررین جیسے جنرل نروا، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور سچن پائلٹ کو بھیجنے کی کوشش کی، لیکن ان کے شرکت سے انکار کے بعد بھارت نے جے سائی دیپک، پنڈت ستیش شرما اور دیورچن بنرجی پر مشتمل ایک کم درجے کا پینل میدان میں اتارا۔
اس کے برعکس پاکستان نے آکسفورڈ میں زیر تعلیم طلبہ—موسیٰ ہراج، اسرار خان کاکڑ اور احمد نواز خان—کو اعتماد کے ساتھ نمائندگی دی۔ پاکستانی طلبہ نے مباحثے میں بھارتی موقف کو منطقی دلائل، قانونی حقائق اور اعدادوشمار کی بنیاد پر چیلنج کیا، جس کے نتیجے میں ووٹنگ میں پاکستانی موقف کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی، حالانکہ بھارتی ارکان کی تعداد زیادہ تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آکسفورڈ جیسے عالمی فورم پر یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ دلیل اور حقائق کی بنیاد پر پاکستان کا موقف مضبوط اور قابلِ اعتماد ہے، جبکہ بھارتی پینل کی شکست بھارت کے فکری موقف میں کمزوری کو ظاہر کرتی ہے۔